1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استنبول میں پہلی انسانیت دوست سربراہ کانفرنس

ترکی میں پیر سے شروع ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا اجلاس ہے جس میں مختلف ممالک کے لیڈر اور امدادی گروپ دنیا میں پائے جانے والے بحرانوں اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل سے نمٹنے پر غور و خوض کریں گے۔

اس دو روزہ غیر معمولی اجلاس میں دنیا کے 60 سربراہان ریاست و مملکت حصہ لے رہے ہیں۔ یہ اجلاس اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس کے ثمربار ثابت ہونے کے بارے میں بہت زیادہ امید نہیں کی جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جنگ و بحران کے سبب 60 ملین انسان در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور کم از کم 125 ملین انسانوں کو امداد و تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے استنبول میں ہونے والی پہلی عالمی انسانیت دوست سربراہ کانفرنس کے شرکاء متفقہ طور پر اس بارے میں سنجیدہ مذاکرات کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سربراہی اجلاس کے میزبان ملک ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اس موقع کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے یورپ کو درپیش مہاجرین کے تاریخی بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کی طرف سے اب تک کیے جانے والے اقدامات اور انقرہ حکومت کی خدمات کو اجاگر کریں گے۔ ترکی اس وقت 2.7 ملین شامی مہاجرین کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے۔

Türkei Ankunft Angela Merkel in Istanbul

جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی اجلاس میں شریک

استنبول اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی اقوام متحدہ کے اہلکاروں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ سمٹ ایک مثالی موقع ہے دنیا بھر میں خونریز نتائج کا سبب بننے والے بحرانوں کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اور اُن کے سد باب کے لیے نئے نقطہ نظر کی تلاش کا۔

اقوام متحدہ میں انسانیت دوست امور کے نائب سیکرٹری جنرل اسٹیفن او برائن کا اس سربراہی اجلاس کے بارے میں کہنا تھا، ’’یہ ایک نسل میں ایک بار ملنے والا موقع ہے جس میں ہم دنیا کے سب سے کمزور افراد کے دکھ دور کرنے اور انہیں دکھوں سے بچانے کے اپنے طریقے کو دور رس ایجنڈہ اور حوصلہ مندانہ منصوبے کے تحت عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔‘‘

Türkei Humanitärer Weltgipfel

اس اجلاس میں 60 سربراہان ریاست و مملکت حصہ لے رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ديگر اجلاسوں سے مختلف ہے کیونکہ اس میں کسی مالی تعاون کا وعدہ شامل نہیں ہے بلکہ اس میں بحران سے نمٹنے کی جامع حکمت عملی تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ژاں الیاسون کے بیان سے بھی ایسے ہی خیالات کی بازگشت سنائی دی۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں بحرانوں اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے ان کی بنیادی وجوہات سے نمٹنا ہوگا۔ ہم بحران کی وجوہات سے نمٹنے میں بڑی تاخیر سے کام لیتے ہیں جبکہ ان کی روک تھام کے لیے بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔‘‘

DW.COM