1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

استنبول میں عام ٹیکسیوں کی بجائے ہیلی کاپٹر کا استعمال

ترکی کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر استنبول ایک ایسا کامیاب تجارتی اور مالیاتی مرکز ہے، جہاں زندگی بڑی مصروف ہے۔بہت سی اہم شخصیات نے اب وقت بچانے کے لیے عام ٹیکسیوں کی بجائے ہیلی کاپٹر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

default

استنبول شہر کے ایشیائی حصے کا ایک منظر

استنبول کو فضا سے دیکھا جائے تو یہ شہر تاریخی یادگاروں، بہت پھیلی ہوئی آبادی اور رک رک کر چلتی ہوئی ٹریفک کا ایک سمندر محسوس ہوتا ہے۔ استنبول ایک بہت بڑا تجارتی اور مالیاتی مرکز بھی ہے کیونکہ ملکی اور غیر ملکی کاروباری ادارے اسے، اس کے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے بہت پسند کرتے ہیں۔ اس شہر میں اربوں کے سودے طے ہوتے ہیں، اگر کاروباری پارٹنرز میں سے کوئی شہر کی کسی شاہراہ پر ٹریفک جام میں پھنس کر نہ رہ گیا ہو تو۔

AH 64 Apache

علی گوئکزوئے پیشے کے اعتبار سے ایک پائلٹ ہیں لیکن چار سال پہلے وہ ہوائی جہاز کی بجائے ہیلی کاپٹر اڑانے لگے تھے۔ اس لیے کہ تب استنبول شہر کے کونے کونے سے واقف اس ترک شہری نے اپنی ایک فرم قائم کر لی تھی۔ ان کی کمپنی مختلف کاروباری شخصیات کو ہیلی کاپٹر کی صورت میں ایئر ٹیکسی مہیا کرتی ہے تاکہ وہ شہر میں کسی بھی جگہ اپنی بزنس میٹنگز کے لیے بروقت پہنچ سکیں۔

علی گوئکزوئے نے چار سال پہلے جب یہ بزنس شروع کیا تھا تو ان کے حریف کاروباری اداروں کی تعداد دو تھی۔ آج ان کی کمپنی کو ایسے دس حریف اداروں کے ساتھ مقابلے کا سامنا ہے۔ استنبول میں آج کل ایسی کسی ایئر ٹیکسی کا اوسط فی گھنٹہ کرایہ 1200 یورو کے قریب ہوتا ہے۔ یہ رقم قدرے زیادہ ہے لیکن کسی ٹریفک جام میں پھنس جانے کی وجہ سے اگر کوئی کمپنی کروڑوں مالیت کا کوئی معاہدہ حاصل نہ کر سکے، تو اس نقصان کے مقابلے میں تو یہ کرایہ کچھ بھی نہیں ہے۔

Flash-Galerie EU Türkei Beitrittsverhandlungen Symbolbild

ہالینڈ کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہینک کورس (Hank Kors) جو استنبول میں ٹیکسی ہیلی کاپٹر باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، کہتے ہیں، ’’استنبول میں اگر آپ نے ایک دن میں چار بزنس میٹنگز میں حصیہ لینا ہو تو ایسا صرف ہیلی کاپٹر ٹیکسی کے ذریعے سفر کرنے سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔‘‘

استنبول میں اب تک ایئر ٹیکسیوں کا کاروبار اس لیے بہت کامیاب جا رہا ہے کہ وہاں ایسے ہیلی کاپٹر کسی بھی جگہ پر لینڈنگ اور ٹیک آف کر سکتے ہیں۔

رپورٹ: اشٹیفان گابیلٹ / مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM