1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استنبول میں دھماکا، کم از کم گیارہ ہلاکتیں

ترک شہر استنبول میں پولیس کی ایک بس پر ہونے والے بم دھماکے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سال کے دوران استنبول اب تک متعدد دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس کی بس کو استنبول کے ایک پر ہجوم علاقے میں نشانہ بنایا۔ استنبول کے گورنر واسپ شاہین کے مطابق مرنے والوں میں سات پولیس اہلکار اور چارعام شہری شامل ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کی تعداد 36 بتائی ہے، جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دہشت گردوں نے بس کو ایک ریمورٹ کنٹرول بم سے اس وقت نشانہ بنایا ، جب وہ شہر کے پرانے حصے کے بایزید نامی علاقے سے گزر رہی تھی۔ اس واقعے کے بعد قریبی زیر زمین ٹرین اسٹیشن کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ترک ٹیلی وژن پر نشر کی جانے والی تصاویر میں تباہ حال بس دکھائی دے رہی ہے جبکہ دھماکے کی شدت سے قریبی دکانوں کے شیشے بکھرے پڑے نظر آ رہے ہیں۔ استنبول کی یونیورسٹی بھی متاثرہ علاقے سے کافی قریب واقع ہے، اسے بھی بند کر دیا گیا ہے اور امتحانات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دی ہیں۔

ابھی تک کسی بھی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے تاہم اس شہر میں اس سے قبل ہونی والی دو دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ قبول کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترک دارالحکومت انقرہ میں اس سال کے آغاز میں ہونے والے دو مختلف دھماکوں کی ذمہ داری کردستان فریڈم فیلکن ’ ٹی اے کے ‘ نامی تنظیم نے قبول کر لی ہے۔ یہ کالعدم کردستان ورکز پارٹی سے علیحدہ ہونے والے چند افراد کی تنظیم ہے۔

ترکی میں رواں سال کے آغاز سے مختلف دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ موسم گرما کے دوران یورپی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ترکی کا رخ کرتی ہے اور آج کے واقعے کے بعد ان میں واضح کمی کا امکان ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اپریل کے مہینے میں تقریباً پونے دو ملین غیر ملکی سیاحوں نے ترکی کا رخ کیا تھا اور یہ تعداد اپریل 2015ء کے مقابلے میں اٹھائیس فیصد کم ہے۔

ترک مغربی دفاعی اتحاد ’نیٹو‘ کا رکن ہے اور یہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد میں بھی شامل ہے۔ ترکی کی سرحدیں شمالی شام کے ان علاقوں سے بھی ملتی ہیں، جو اسلامک سٹیٹ کے زیر قبضہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی لیے ترکی دہشت گردوں کے لیے ایک آسان ہدف بھی ہے۔