1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’استنبول: مبینہ حملہ آور کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے‘

ترک وزیر خارجہ کے مطابق استنبول کے نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کو شناخت کر لیا گیا ہے۔ اسی دوران ترک سکیورٹی حکام نے داعش کے ساتھ مبینہ تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اولو نے ملکی نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ استنبول کے نائٹ کلب پر نئے سال کے موقع پر حملہ کرنے والے کی حتمی شناخت کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے حملہ آور کی شناخت کی مزید تفصیل ظاہر کرنے کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔

 ترک میڈیا کے مطابق حملہ آور کا تعلق وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان یا ازبکستان کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ استنبول حملے کا مبینہ ملزم ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا اور وہ مفرور ہے جبکہ پولیس اور خفیہ اداروں کے ایجنٹ اپنے چھاپوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 ترک میڈیا کے مطابق شام سے ترکی میں داخل ہو کر حملہ آور نے وسطی شہر قونیا میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر حاصل کیا تھا۔ اُس کے ہمراہ اُس کی بیوی اور دو بچے بھی تھے۔ ترک میڈیا پر یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ حملہ آور کی بیوی اِس وقت پولیس کی حراست میں ہے اور اُس نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ نہیں جانتی کہ اُس کا شوہر استنبول کے نائٹ کلب پر حملے میں ملوث ہے۔

Türkei Istanbul Nachtclub Reina Polizei (Getty Images/AFP/O. Kose)

استنبول کے رائنا نائٹ کلب کے قریب ترک پولیس کا اہلکار

نیوز ایجنسی ڈوگن کے مطابق انہی ایام میں پولیس نے تین ایسے خاندانوں سے بھی پوچھ گچھ جاری رکھی ہوئی ہے، جو بیس روز قبل قونیا سے ازمیر شہر منتقل ہوئے ہیں۔ ان تینوں خاندانوں کے ستائیس افراد کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

تین خاندانوں کی گرفتاری سے قبل ترک سکیورٹی حکام نے کم از کم چودہ افراد گرفتار کر رکھے ہیں۔ پانچ ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، جن پر شبہ ہے کہ وہ داعش کے کارکن ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ گرفتار کیے گئے یہ افراد حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بھی دو غیر ملکیوں کو گرفتار کرنے کے بعد اُن کے موبائل فونز اور سامان کو پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

سال 2017 کے شروع ہونے کے اولین گھنٹے میں استنبول کے رائنا نائٹ کلب پر کیے گئے حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ نے قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ اُس کے ایک سپاہی نے کیا تھا۔ اس حملے میں انتالیس افراد مارے گئے تھے، جن میں ستائیس غیرملکی تھے۔ غیر ملکیوں کا تعلق لبنان،سعودی عرب، اسرائیل، بھارت، اردن، عراق، تیونس اور مراکش سے تھا۔