1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استنبول حملہ: دہشت گردی کے خلاف جنگ آخر تک، ایردوآن

نئے سال کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد استنبول میں بہت سے غیر ملکیوں سمیت انتالیس افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملے کے تناظر میں ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ ترکی دہشت گردی کے خلاف آخر تک جنگ لڑے گا۔

Türkei Istanbul - Krankenwagen nach Angriff auf Nachtclub (Reuters/Stringer)

رائنا نائٹ کلب حملے میں پندرہ غیر ملکیوں سمیت انتالیس افراد ہلاک ہوئے

ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول سے اتوار یکم جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ استنبول کے رائنا نائٹ کلب میں کیا جانے والا حملہ ’ترکی کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش‘ تھا۔

Türkei Recep Tayyip Erdogan Ankara (picture-alliance/dpa/Y.Bulbul)

یہ حملہ ترکی کو غیر مستحکم بنانے کی کوشش ہے، صدر ایردوآن

ترک سربراہ مملکت کے مطابق انقرہ حکومت دہشت گردی کی ہر ممکنہ شکل اور ایسی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما ہر قسم کے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اپنی جنگ ایسی قوتوں کی حتمی شکست اور خاتمے تک جاری رکھے گی۔

صدر ایردوآن نے اس حملے کے بعد اتوار کی صبح جاری کیے گئے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا، ’’بطور قوم ہم نہ صرف مسلح دہشت گردانہ حملے کرنے والے گروہوں اور ان کے پیچھے سرگرم قوتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھیں گے بلکہ ترکی پر کیے جانے والے جملہ اقتصادی، سیاسی اور سماجی حملوں کو بھی پوری قوت سے ناکام بنا دیا جائے گا۔‘‘

صدر ایردوآن نے اپنے اس بیان میں مزید کہا، ’’وہ (ایسے حملے کرنے والے) انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، ہمیں اخلاقی طور پر ناامید کرنا چاہتے ہیں اور ترکی کو غیر مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ایسے قابل مذمت حملوں کا، جن میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، طیش میں آئے بغیر ٹھنڈے دماغ سے ایک قوم کے طور پر مل کر مقابلہ کریں گے۔ ہم ایسے گھناؤنے اقدامات کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی کسی کو بھی کبھی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

Türkei Istanbul - Nachtclub Reina (picture-alliance/R. Hackenberg)

آبنائے باسفورس کے کنارے رائنا نائٹ کلب استنبول میں ملکی اور غیر ملکی اشرافیہ کا پسندیدہ ترین مقام ہے

Istanbul Reina nightclub nach Anschlag (Reuters/U. Bektas)

حملے کے بعد رائنا نائٹ کلب کی آبنائے باسفورس سے لی گئی ایک تصویر، پیش منظر میں کوسٹ گارڈز کی ایک گشتی کشتی

استنبول میں آبنائے باسفورس کے کنارے اس شہر کے یورپی حصے میں ملکی اور غیر ملکی اشرافیہ میں انتہائی مقبول اور بہت مہنگے رائنا نائٹ کلب میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نیا سال شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ایک مسلح حملہ آور نے وہاں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔

اس حملے میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ترک وزیر داخلہ کے مطابق کم از کم 15 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس حملے میں 60 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے۔

اس حملے کے بعد واحد حملہ آور، کئی رپورٹوں کے مطابق مبینہ طور پر موقع پر ہی اپنا لباس بدل کر، وہاں سے فرار ہو گیا تھا اور ترک سکیورٹی اہلکار اس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Türkei Istanbul - Sanitäter transportieren verletzte nach Angriff auf Nachtclub (Reuters/Stringer)

ساٹھ کے قریب زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے

اس حملے کی دنیا بھر میں بہت سے رہنماؤں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ اقدام اور سال 2017ء کا افسوس ناک آغاز قرار دیا ہے۔ ترک حکام کے بقول یہ حملہ واضح طور پر ایک دہشت گردانہ کارروائی تھا۔ ابھی تک اس حملے کی کسی بھی شدت پسند گروپ یا تنظیم نے ذمے داری قبول نہیں کی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic