استنبول ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں | حالات حاضرہ | DW | 19.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استنبول ایک بار پھر دہشت گردی کی زد میں

ترکی کے سیاحتی اور اہم شہر استنبول میں ایک بار پھر بم دھماکا ہوا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس خودکش بم دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سی این این تُرک ٹیلی وژن کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ خودکش حملہ استنبول کے استقلال چادیسی اسٹریٹ پر ہوا جو ویک اینڈ ہونے کے باعث لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ پولیس نے استقلال چادیسی کے اُس حصے کو بند کر دیا ہے جو اسے تقسیم اسکوائر یا شہر کے یورپی حصے سے ملاتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس خودکش حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 36 ہے جن میں سے سات کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔ ترک وزیر صحت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں 12 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

ترک میڈیا پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں دھماکے کے مقام کی طرف بہت سی ایمبولینسوں کو جاتے دکھایا گیا ہے۔ گزشتہ برس جولائی سے اب تک تُرکی میں پانچ بڑے دہشت گردانہ حملے ہو چکے ہیں۔ زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری علیحدگی پسند کردستان ورکرز پارٹی پر عائد کی جاتی ہے۔ چونکہ پیر 21 مارچ کو کُرد نئے سال کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اس وجہ سے ملک میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

اے ایف پی نے قبل ازیں استنبول کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 20 سے زائد زخمی ہونے والوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ گورنر واسپ ساہِن Vasip Sahin کے مطابق حملہ آور بھی اس حملے میں ہلاک ہو گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ہلاک شدگان کی بت‍ائی گئی تعداد میں حملہ آور بھی شامل ہے یا نہیں۔

استنبول حملے میں اسرائیلی شہری بھی نشانہ

استنبول میں ہونے والے اس خودکش بم حملے میں اسرائیلی شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے یہ بات اسرائیلی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتائی ہے۔

دھماکے کے مقام کی طرف بہت سی ایمبولینسوں کو جاتے دکھا گیا ہے

دھماکے کے مقام کی طرف بہت سی ایمبولینسوں کو جاتے دکھا گیا ہے


تُرکی کی دوگان نیوز ایجنسی کی طرف سے قبل ازیں بتایا گیا کہ اس حملے میں تین اسرائیلی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل ناہشون Emmanuel Nahshon کی طرف سے تاہم نہ تو دھماکے کا نشانہ بننے والے اسرائیلی شہریوں کی تعداد بتائی گئی ہے اور نہ ہی ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات بتائی گئی ہے۔

استنبول میں ہونے والا یہ بم دھماکا دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے خودکش کار بم حملے سے محض چھ روز بعد ہوا ہے جس کے نتیجے میں 35 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اُس حملے کی ذمہ داری کرُد باغیوں نے قبول کی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران ترکی میں شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ کی طرف سےکئی دہشت گردانہ حملے کیے جا چکے ہیں۔