1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استنبول ایئر پورٹ پر داعش کا بڑا خود کش حملہ، چھتیس ہلاکتیں

ترکی کے شہر استنبول میں ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے پر دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے تین جہادیوں کی طرف سے کیے گئے ایک بڑے خود کش حملے میں چھتیس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہو گئے۔

بدھ انتیس جون کو استنبول سے ملنے والی مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس کارروائی کے دوران ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے تین خود کش حملہ آوروں نے پہلے شہر کے اتاترک ایئر پورٹ پر اندھا دھند فائرنگ کی اور پھر خود کو بم دھماکوں سے اڑا دیا۔ یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات دس بجے سے چند منٹ پہلے کیا گیا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ اس کارروائی کے دوران پہلے ایک مسلح حملہ آور نے اتاترک انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے ایک لاؤنج میں موجود افراد پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور جب وہاں موجود افراد افراتفری میں اہنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے، تو ہوائی اڈے کے بین الاقوامی آمد والے حصے میں ان تینوں عسکریت پسندوں نے خود کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

ترکی کا یہ ایئر پورٹ نہ صرف ملک کا سب سے بڑا ہوائی اڈہ ہے بلکہ یہ یورپ کا تیسرا مصروف ترین ایئر پورٹ بھی ہے، جہاں کیا جانے والا یہ تازہ خونریز حملہ ترکی میں کی جانے والی کوئی پہلی بڑی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہے۔

اس سے پہلے بھی گزشتہ ہفتوں اور مہینوں کے دوران ترکی میں داعش اور علیحدگی پسند کرد عسکریت پسندوں کی طرف سے کئی بڑے حملے کیے جا چکے ہیں۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ کل رات کیے جانے والے حملے سے پہلے جب ان تین شدت پسندوں میں سے دو نے اتاترک ایئر پورٹ کی حدود میں بین لاقوامی آمد والے لاؤنج کے قریب ایکی سکیورٹی چیک پوسٹ کو زبردستی عبور کرنے کی کوشش کی تو ان حملہ آوروں کو روکنے کے لیے وہاں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی تھی۔

ایک ترک اہلکار نے بتایا کہ اس فائرنگ کے وقت ان دونوں حملہ آوروں نے خود کو وہیں پر دھماکوں سے اڑا دیا۔

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اس حملے کو معصوم افراد کے خلاف کی جانے والی ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ دہشت گردی کا ایک سوچی سمجھی کارروائی تھا۔

بن علی یلدرم نے مزید کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ حملہ بظاہر شام اور عراق کے متعدد علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی کارروائی ہے تاہم ابھی تک کسی بھی عسکریت پسند تنظیم یا گروہ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ ترک سربراہ حکومت کے مطابق یہ تینوں حملہ آور ایک ٹیکسی کے ذریعے اتاترک ایئر پورت تک پہنچے تھے۔

اسی دوران انسداد دہشت گردی کے دو امریکی ماہرین نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ جس طرح استنبول میں یہ حملہ کیا گیا ہے، وہ بظاہر ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کی طرف سے ایسے حملوں کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار کا پتہ دیتا ہے۔