1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسامہ کی یمنی بیوہ: وطن واپسی کے لیے کوششیں

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کی یمن سے تعلق رکھنے والی سب سے کم عمر بیوہ کی وطن واپسی کے لیے کوششیں کر رہی ہے، جو اس وقت پاکستان میں زیر حراست ہے۔

default

ایبٹ آباد میں بن لادن خاندان کا وسیع و عریض رہائشی کمپاؤنڈ

دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کمانڈوز کی ایک کارروائی میں ہلاک کر دیے جانے والے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی اس بیوہ کا نام امل عبدالفتح ہے اور اس کی عمر 29 برس ہے۔ آج منگل کو صنعاء سے ملنے والی رپورٹوں میں مختلف خبر ایجنسیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یمن میں انسانی حقوق اور آزادیوں کے دفاع کی قومی تنظیم نامی ایک غیر سرکاری آرگنائزیشن (HOOD) امل عبدالفتح کی یمن واپسی کے لیے کوششیں بن لادن کی اس بیوہ کے خاندان کے ایماء پر کر رہی ہے۔

Pakistan Premierminister Yusuf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم گیلانی ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن اور بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں ملکی پارلیمان کو اعتماد میں لیتے ہوئے

عبدالرحمان نامی ایک وکیل کے مطابق امل عبدالفتح کا تعلق یمن کے السعادہ نامی قبیلے سے ہے، جس کے ارکان زیادہ تر ملکی دارالحکومت صنعاء سےجنوب مغرب کی طرف واقع ایک صوبے میں آباد ہیں۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس انتہائی مطلوب دہشت گرد رہنما کی جن تین بیویوں کو ان کے کل تیرہ بچوں کے ساتھ حکام نے حراست میں لے لیا تھا، ان میں امل عبدالفتح بھی شامل تھی، جسے امریکی کمانڈوز کے آپریشن کے دوران ایک ٹانگ پر گولی بھی لگ گئی تھی، اور جس کا مبینہ طور پر ابھی تک علاج ہو رہا ہے۔

بن لادن کی ان تینوں بیوگان سے پاکستان میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار مبینہ طور پر پوچھ گچھ بھی کر چکے ہیں۔ HOOD نامی یمنی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق اس کے قانونی ماہرین کی کوشش ہے کہ صنعاء حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ امل عبدالفتح کو پاکستانی حکام کی حراست سے رہا کرانے کے بعد اسے واپس یمن لانے کا اہتمام کرے۔

اس تنظیم کے ایک سرکردہ رکن اور ماہر قانون عبدالرحمان نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اس وقت 29 سالہ امل عبدالفتح کی 90 کے عشرے کے آخر میں 18 برس کی عمر میں بن لادن سے شادی ہوئی تھی۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اس یمنی وکیل کے بقول امل ایک ’معصوم یمنی شہری‘ ہے اور اس کا ’واحد جرم یہ ہے کہ اس نے بن لادن سے شادی کی تھی۔

مختلف خبر رساں اداروں نے لکھا ہے کہ امل عبدالفتح کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے HOOD کی طرف سے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ رابطوں کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ امل عبدالفتح کی اسامہ بن لادن سے کم از کم ایک بیٹی بھی ہے، جس کا نام صفیہ ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ایبٹ آباد میں بن لادن خاندان کی رہائش گاہ سے اسامہ کی جن تین بیویوں کو گرفتار کیا گیا تھا، ان میں امل کے علاوہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی بن لادن کی دو دیگر بیویاں بھی شامل ہیں، جو دونوں عمر میں امل سے بڑی ہیں۔

تاہم اسلام آباد میں حکام کے بقول ان خواتین اور ان کے بچوں کو پاکستان سے ملک بدر کر کے ان کے آبائی وطنوں میں بھیجے جانے سے متعلق ابھی تک نہ تو سعودی حکومت نے کوئی در‌خواست دی ہے اور نہ ہی یمنی حکومت نے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس