1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسامہ کی ہلاکت کے طریقہٴ کار پر عالمی بحث

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر کو ہلاک کرنے کے امریکی آپریشن کے حوالے سے خدشات ابھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی کمانڈو ایکشن کو عالمی منظر پر تنقید کا سامنا ہے۔

default

القاعدہ کے غیر مسلح لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا باعث بننے والے امریکی آپریشن پر عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس آپریشن میں امریکہ کے بطور پولیس مین، جج اور جلاد کردار کو تنقید کا سامنا ہے۔ اسی طرح ان کی نعش کو سمندر برد کرنے پر بھی کئی مسلمان لیڈروں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے اسلامی طریقہٴ کار کے منافی قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر کی رہائش گاہ کے ترجمان جے کارنی نے آپریشن کے وقت اسامہ بن لادن کی مزاحمت کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے اپنی گرفتاری کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ کارنی کے مطابق آپریشن کے وقت مزاحمت کا احساس تھا اور ایسا محسوس بھی کیا گیا کیونکہ عمارت کے احاطے میں کئی مسلح افراد تھے۔

Deutschland Parteien SPD Vorstand Helmut Schmidt

ہیلمٹ شمٹ: فائل فوٹو

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے امریکی آپریشن کے حوالے سے سابق جرمن چانسلر اور معروف سٹیٹسمین ہیلمٹ شمٹ نے جرمن ٹیلی وژن پر اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ایکشن کے سیاسی عدم استحکام سے عبارت عرب دنیا پر ناقابلِ شمار اثرات مرتب ہوں گے۔ شمٹ نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا۔

سابق جرمن چانسلر کے خیالات ہی کی طرح عالمی شہرت کے حامل آسٹریلین وکیل جیفری رابرٹ سن کا بھی کہنا ہے کہ اس عمل میں انصاف کہیں نہیں دکھائی دیتا، یہ انصاف کے منافی تھا۔ انسانی حقوق کے معروف وکیل رابرٹ سن کا کہنا ہے کہ انصاف کا مطلب کسی شخص کو پکڑ کر

GEOFFREY RONALD ROBERTSON

جیفری رابرٹ سن برطانوی اور آسٹریلوی دوہری شہریت کے حامل ہیں

عدالتی کٹہرے میں لانا اور شہادتوں کی روشنی میں اس پر جرم ثابت کرنا اور پھر قانون کے مطابق سزا سنانا ہے۔ رابرٹ سن نے ان خیالات کا اظہار لندن سے اپنے ملک کے قومی ٹیلی وژن چینل پر کیا۔ رابرٹ سن کے مطابق یہ تو گویا کسی فوجی عدالت میں مختصر سماعت کے بعد کھڑا کر کے ہلاک کرنے کے برابر ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح اب وائٹ ہاؤس سے غلط اطلاعات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل کی واردات ہے۔ آسٹریلیا کے وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ بن لادن پر اسی طرح مقدمہ چلایا جانا چاہیے تھا، جس طرح سلوبوڈان ملوشووچ کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا گیا یا دوسری عالمی جنگ کے مجرمین کو نیورمبرگ ٹرائل میں پیش کیا گیا تھا۔ رابرٹ سن کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بن لادن کو امریکی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائی جاتی اور وہ اپنی بقیہ زندگی نیویارک ریاست کی کسی جیل میں گزارتے لیکن بن لادن کو وہی ملا، جس کی وہ تمنا کرتے تھے کہ دوران جہاد وہ گولی کھا کر سیدھے جنت سدھار جائیں۔

ہالینڈ کے انٹرنیشنل لاء کے معروف وکیل Gert-Jan Knoops کا کہنا ہے کہ بن لادن کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق امریکی کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ اپنے مخالفین میدان جنگ میں لاتے ہیں لیکن اس ایکشن میں یہ دلیل ناکافی ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے سینئر مذہبی رہنما سید احمد بخاری نے بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے کہا کہ امریکہ جنگل کے قانون کی ترویج کر رہا ہے، اس کے لیے افغانستان ہو یا پاکستان یا عراق یا لیبیا۔ سعودی عرب کی شاہی عدالت کے مشیر شیخ عبدل محسن العبیکان کا بن لادن کی نعش کو سمندر بر دکرنے پر کہنا ہے کہ یہ اسلامی طریقہ نہیں، اسلام میں میت کو دفنایا جاتا ہے۔ اسی طرح انڈونیشیا کی علماء کونسل کے رکن امیدان کا کہنا ہے کہ سمندر میں نعش کو پھینکنے کے لیے غیر معمولی حالات کا ہونا از حد ضروری ہے اور کیا اس وقت دنیا میں غیر معمولی حالات موجود ہیں؟

رپورٹ: عابد حسین ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس