1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسامہ کی ہلاکت اور پاکستان میں قبل از وقت انتخابات کا امکان

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال قبل از وقت انتخابات کی وجہ بن سکتی ہے۔

default

دو مئی کو ایبٹ آباد میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ایک خفیہ امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد پاکستان اور پاکستانی ایک مخمصے کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو بن لادن کی پاکستان میں کئی برس سے موجودگی ملک کی انتظامیہ، سیاسی اور فوجی قیادت کے لیے خفت کا باعث ہے تو دوسری طرف یہ امر بھی ان کے لیے ہزیمت کا سبب بنا ہوا ہے کہ امریکی افواج ان کی سرحد کے اندر داخل ہو کر، بغیر کسی اجازت کے، بن لادن کو ہلاک کر کے چلی بھی گئیں اور ان کو کان و کان خبر تک نہیں ہوئی۔ اور اگر ہوئی تو پھر پاکستانی افواج اور امریکہ کے درمیان ساز باز بھی ان دنوں ملک میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

NO FLASH Hillary Clinton und Mike Mullen

پاکستان پر امریکی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں مبصرین اس صورتِ حال کو انیس سو اکہتر کی جنگ والی صورتِ حال سے تشبیہ دے رہے ہیں، جب مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو کر ایک نئی ریاست کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ اس دوران مغربی پاکستان کی جانب سے ناکام فوجی آپریشن پر بھی پاکستانی فوج کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک بار پھر پاکستان کی ’سالمیت‘ اور ’خود مختاری‘ پر ضرب لگنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

بعض پاکستانی مبصرین کی رائے میں یہ صورتِ حال ملک میں مڈ ٹرم الیکشن کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ خیال رہے کہ پیپلز پارٹی کی موجوہ حکومت کو مینڈیٹ کے مطابق دو ہزار تیرہ تک اقتدار میں رہنے کا حق حاصل ہے۔

اس صورتِ حال میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ اگر قبل از وقت انتخابات ہوئے تو نواز شریف کی مسلم لیگ کی فتح کے امکانات پیپلز پارٹی سے زیادہ ہیں، جو کہ موجودہ صورتِ حال کے باعث بڑی حد تک غیر مقبول ہو چکی ہے۔

Pakistan Nawaz Shrif und Präsident Asif Ali Zardari

نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ اور زرداری کا گراف کمزور، سروے

تاہم مبصرین کی رائے یہ بھی ہے کہ نواز شریف کے فوج کے خلاف تند و تیز بیانات اسٹیبلشمنٹ میں ان کی غیر مقبولیت کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بھی ایک نازک موڑ پر ہیں۔ امسال جولائی سے افغانستان میں نیٹو افواج کا مرحلہ وار انخلاء شروع ہو رہا ہے۔ اس سے قبل امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان اپنے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ لہٰذا جو بھی حکومت میں ہوگا اسے یہ کام تو کرنا ہی پڑے گا۔ کیا نواز شریف اس کے لیے تیّار ہوں گے؟

بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ افواج پاکستان اب اپنا امیج بہتر کرنے کے لیے پاکستان کی سیاسی بساط میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں تو ضرور کرے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس ’کاسمیٹک سرجری‘ کے بعد کیا پاکستان مسائل کے اس گرداب سے نکل آئے گا جو کہ اس کی معیشت اور سیاست کو درپیش ہیں؟

رپورٹ: شامل شمس

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM