1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسامہ کی پاکستان میں موجودگی، کچھ لوگوں کو علم تھا، مائیک راجرز

امریکی ایوان نمائندگان کے رکن مائیک راجرز نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں شاید کچھ لوگوں کو معلومات تھیں تاہم ایسا نہیں کہ بن لادن اسلام آباد حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں نے پناہ دے رکھی تھی۔

default

امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئر مین مائیک راجرز نے کہا ہے کہ غالبا ﹰ کچھ لوگوں کو علم تھا کہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن اسلام آباد کے قریب ہی رہ رہا تھا۔ مائیک راجرز نے کہا کہ ابھی تک جومعلومات انہیں موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق وہ قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ حکومت پاکستان کا کوئی اعلیٰ اہلکار اسامہ بن لادن کی ’محفوظ پناہ گاہ‘ کے بارے میں جانتا تھا یا اس کا تحفظ کر رہا تھا۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک سے گفتگو کرتے ہوئے ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے راجرز نے مزید کہا،’صاف ظاہر ہے کہ کچھ ایسے عناصر ہو سکتے ہیں، جو یہ سب جانتے ہوں۔ لیکن ہم کسی ادارے کا نام نہیں لے سکتے‘۔

Pakistan Premierminister Yusuf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے

پاکستانی حکومت نے واشنگٹن حکومت کی طرف سے عائد کیے گئے ایسے تمام الزامات مسترد کر دیے ہیں کہ دو مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کے یکطرفہ خفیہ آپریشن کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو پاکستانی خفیہ ادارے نااہل ہیں یا پھر وہ سب کچھ پہلے سے ہی جانتے تھے۔

دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد اسامہ بن لادن کی پاکستان کے فوجی اہمیت کے حامل ایک شہر میں ہلاکت کے واقعے کے بعد پاکستانی خفیہ اداروں پر ایسے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ وہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں علم رکھتے تھے اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ مکمل طورپر نااہل ہیں۔

اگرچہ امریکی صدر باراک اوباما کہہ چکے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجوگی کے حوالے سے انہیں پاکستان کے اندر ہی تعاون حاصل تھا تاہم اسلام آباد اور واشنگٹن حکومتیں اس بارے میں حقائق جاننے کے لیے الگ الگ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئر مین مائیک راجرز نے کہا ہے کہ جیسے ہی اس حوالے سے کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار کی جائے گی تو اس کے نتائج عوامی سطح پر جاری کر دیے جائیں گے،’ میرا خیال ہے کہ آپ ایسے حقائق کو چھپا نہیں سکتے‘۔ راجرز نے مزید کہا کہ واشنگٹن حکومت کو معلوم ہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں اب بھی کچھ عناصر طالبان، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت:مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس