1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسامہ کا قریبی ساتھی پاکستان میں ہلاک

امریکی میڈیا نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کا حصہ سمجھے جانے والے عطیہ عبدالرحمٰن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کی ہلاکت مبینہ ڈرون حملے میں ہونے کا امکان ہے لیکن اس کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

default

پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ کارروائیوں میں لیبیا کے شہری عطیہ عبدالرحمٰن کا کردار انتہائی اہم خیال کیا جا رہا تھا۔ اسے القاعدہ کے آپریشنل شعبے کا سربراہ خیال کیا جاتا تھا۔ وہ امریکہ کو مطلوب، پاکستان اور افغانستان میں روپوش القاعدہ کے پانچ اعلیٰ رہنماؤں میں سے ایک تھا۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ عطیہ عبدالرحمٰن کے مارے جانے کی خبر امریکی میڈیا سے جاری ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اسامہ بن لادن اور عطیہ کے درمیان قریبی تعلق تھا۔ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو دو مئی کے خفیہ آپریشن میں ہلاک کردیا گیا تھا اور تب وہاں سے ملنے والی الیکٹرانک فائلز میں دونوں کے درمیان موجود گہرے رابطوں کا پتہ چلا تھا۔ اسامہ بن لادن کی ہدایت پر عطیہ ایران میں رضاکاروں کی بھرتی کے مشن پر بھی مامور تھا تاکہ ان رضاکاروں کو تربیت کے بعد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

عطیہ عبدالرحمٰن کے ابو مصعب زرقاوی کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بیان کیے جاتے ہیں۔ طالبان حکومت کے زوال کے بعد سن 2001میں وہ اسامہ بن لادن کے ہمراہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع پہاڑی علاقوں میں روپوش ہو گیا تھا۔

Flash-Galerie Pakistan

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مبینہ ڈرون حملوں میں کئی انتہاپسند ہلاک ہو چکے ہیں

امریکہ کی جانب سے عطیہ عبدالرحمٰن کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر تھی۔ اس کی عمر چالیس سال سے زائد خیال کی جاتی تھی۔ وہ لیبیا میں انتہاپسند تنظیم لیبیا اسلامی فائٹنگ گروپ کے ساتھ بھی وابستہ رہا۔ اس نے سن 1980کی دہائی میں اسامہ بن لادن کے گروپ کے ساتھ افغانستان میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ بارود کے استعمال کا ماہر خیال کیا جاتا تھا۔ انتہاپسند اسلامی نظریات کے ماہر کے طور پر اسے القاعدہ کی صفوں میں اہم مقام حاصل تھا۔

اسی ماہ کے دوران امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا کا کہنا تھا کہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان، افغانستان اور یمن کے علاوہ دیگر ملکوں میں سرگرم القاعدہ کی قیادت کا کھوج لگا لیا گیا ہے اور ان کی ہلاکتوں سے القاعدہ کا دہشت گردانہ منصوبوں پر عمل پیرا ہونا ناممکن ہو جائے گا۔ پینیٹا نے یہ بھی کہا تھا کہ القاعدہ کی مکمل شکست بہت قریب ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے مطابق مختلف ملکوں میں القاعدہ کی لیڈرشپ کے ٹھکانوں کو ڈھونڈ لیا گیا ہے اور اب حتمی کارروائی باقی ہے۔

 

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس