1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسامہ مسلح نہیں تھا، وائٹ ہاؤس

امریکہ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کمانڈو آپریشن کے دوران مسلح نہیں تھا، تاہم اس نے گولی لگنے سے قبل مزاحمت کی۔ گرفتاری کے بجائے بن لادن کی ہلاکت امریکہ پر تنقید کا سبب بھی بنی ہوئی ہے۔

default

وائٹ ہاؤس نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ پر امریکی خصوصی فورسز نے دھاوا بولا تو اس وقت اسامہ بن لادن مسلح نہیں تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ فورسز کی جانب سے گولی چلائے جانے سے قبل اس نے مزاحمت کی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنے نے اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ’صدر باراک اوباما کے احکامات پر مختصر امریکی ٹیم نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری یا ہلاکت کے لیے کارروائی کی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں تین خاندان تھے، جو وہاں دو مختلف عمارتوں میں رہائش پذیر تھے۔ جے کارنے نے محکمہ دفاع کے تیار کیے گئے اعلامیے کو پڑھتے ہوئے بتایا کہ جس عمارت میں بن لادن اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا، وہاں مزید ایک خاندان بھی تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی عمارت میں القاعدہ کے دو دیگر اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ وہاں فائرنگ کی زد میں آ کر ایک خاتون بھی ہلاک ہوئی۔

ان کا کہنا تھا، ’اسی عمارت کی دوسری منزل پر اسامہ اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھا۔ کمانڈو وہاں پہنچے تو بن لادن کی اہلیہ ان کی طرف دوڑی، جس کی ٹانگ پر گولی ماری گئی۔ اس کے بعد بن لادن کو گولی ماری گئی۔ وہ مسلح نہیں تھا۔’

Deutschland Helmut Schmidt in Berlin

ہیلمٹ شمٹ

اُدھر امریکی حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کہ وہ القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کے بارے میں تصویری شواہد فراہم کرے۔ وائٹ ہاؤس کے انسداد دہشت گردی کے سربراہ جان برینن نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بات پر غور کررہی ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے آپریشن کی تصاویر اور ویڈیو جاری کردی جائیں۔

سابق جرمن چانسلر کا مؤقف:

جرمنی کے سابق چانسلر ہیلمٹ شمٹ نے امریکی کمانڈو آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اسے گرفتار کرکے مقدمہ کیوں نہیں چلایا گیا۔ ہیلمٹ شمٹ نے ایک جرمن ٹیلی وژن کو بتایا کہ یہ ہلاکت ’بین الاقوامی قوانین کی کُھلی خلاف ورزی‘ ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM