1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسامہ اور الیاس کشمیری کے بعد، دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا مرحلہ

اسامہ بن لادن کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی تھی۔ اب الیاس کشمیری کی مبینہ ہلاکت نے صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔

default

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ فاروق حمید خان کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اور الیاس کشمیری کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں نیٹو افواج اور پاکستان میں فوجی تنصیبات و املاک پر حملوں کا امکان مزید بڑھ گیا ہے۔ ان کے بقول الیاس کشمیری کی ڈرون حملے میں ہلاکت سے جہاں اس امریکی موقف کو تقویت ملی ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف کئے جا رہے ہیں وہاں اس سے یہ تاثر بھی مل رہا ہے کہ پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے امریکہ اور پاکستان میں خفیہ معلومات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

ادھر پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اسامہ اور الیاس کشمیری کے بعد دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے نئے مرحلے میں دہشت گرد اور ان کی تنظیمیں تو پوری طرح متحد دکھائی دے رہی ہیں لیکن پاکستانی قوم، عسکری ادارے اور سیاسی قیادت بری طرح انتشارکا شکار ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی قوم اب بھی اس جنگ کو اپنی جنگ تسلیم نہیں کر رہی ہے۔ امریکہ پاکستان میں عوامی حمایت سے محروم حکمران اشرافیہ کے ساتھ مل کر جنگ جیتنا چاہتا ہے، جو کہ ممکن نہیں ہے۔

Mohammed Ilyas Kashmiri

الیاس کشمیری کی مبینہ ہلاکت نے صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے

اسامہ اور الیاس کشمیری کی ہلاکتوں کے بعد افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے حوالے سے بھی بحث زور پکڑ گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈئیر ریٹائرڈ فاروق حمید کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے ان رہنماؤں کی ہلاکتوں نے صدر اوباما کو افانستان سے امریکہ کی افواج نکال کر اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لیے ایک جواز مہیا کر دیا ہے لیکن سینئر تجزیہ کار حامد میر کی رائے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے مغربی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کی تردید کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے بقول طالبان کےساتھ امن مذاکرات کے بغیر امریکہ کے لیے افغانستان سے جانا آسان نہیں ہو گا۔ حامد میر کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا خاتمہ اب امریکی شرائط کے مطابق ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس کے لیے افغانی طالبان، پاکستان، ایران اور چین سب کو ساتھ لے کر چلنا نا گزیر ہو گا۔

Flash-Galerie Spuren des Terrors

پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ااضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے

ادھر الیاس کشمیری کی موت کا معاملہ مزید گھمبیر ہو گیا ہے۔ حامد میرکہتے ہیں کہ ان کے لیے الیاس کشمیری کے طالبان کے مخالف کمانڈر مولوی نذیر کے زیر تسلط علاقے وانا میں جا کر سیبوں کے باغ میں چائے پینے کی کہانی پر یقین کرنا خاصا مشکل ہے۔ الیاس کشمیری کے بھائی چوہدری اصغر نے بھی الیاس کشمیری کی موت کے ٹھوس شواہد طلب کرتے ہوئے ان کی لاش لواحقین کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی حکام نے بھی الیاس کشمیری کی موت کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ادھر پنجاب کے کئی علاقوں میں سکیورٹی اداروں کا خفیہ آپریشن جاری ہے اور بڑے شہروں میں دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ منگل کے روز سکیورٹی حکام نے فیصل آباد کے علاقے سے الیاس کشمیری کے تین ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM