1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ازلان شاہ ٹورنامنٹ: پاکستان ہاکی ٹیم کے باغی کھلاڑی

پاکستان ہاکی ٹیم کو ازلان شاہ کپ سے پہلے نئے قضیے کا سامنا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے سہیل عباس، ریحان بٹ، شکیل عباسی اور وسیم احمد کو بھارت میں ایک غیر قانونی لیگ کے ساتھ معاہدے کرنے پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

default

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ان چاروں کھلاڑیوں کی ملائشیا میں کھیلے جانے والے ازلان شاہ کپ کے لیے ٹیم میں شمولیت کو باغی لیگ کے ساتھ معاہدے منسوخ کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری آصف باجوہ نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بھارت میں کھیلنے کا غیر قانونی معاہدہ کرکے ملک کی بدنامی کا باعث بننے والے ان کھلاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ باجوہ کے مطابق اگر ان کھلاڑیوں نے باغی ورلڈ سیریز آف ہاکی کے ساتھ اپنی لا تعلقی سے معتلق تحریری طور پر یقین دہانی نہ کرائی تو ان کھلاڑیوں کا سینٹرل کنٹریکٹ منسوخ کرنے کے علاوہ ان پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی جائے گی اور ان کھلاڑیوں کو محکمانہ کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

Pakistanischer Hockeyspieler Sohail Abbas

ہاکی فیڈریشن کی جانب سے سہیل عباس کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے

اس سے قبل پاکستان ہاکی ٹیم کےکپتان ذیشان اشرف بھی مبینہ طور پر بھارت میں ممنوعہ ورلڈ سیریز آف ہاکی کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر ازلان شاہ کپ ٹورنامنٹ کھیلنے سے معذرت کر چکے ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ابھی چند ماہ پہلے ہی پاکستان نے ذیشان اشرف کی قیادت میں ایشین گیمز کا ٹائٹل دو عشروں کے کٹھن انتظار کے بعد جیتا تھا۔ ذیشان اشرف سمیت دیگر کھلاڑیوں کے باغی انڈین ورلڈ سیریز آف ہاکی کے ساتھ معاہدوں کا ذمہ دار سابق کپتان محمد ثقلین کو قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی لیگ کے پاکستان میں ایجنٹ کا کام کرنے والے محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے رویے سے تنگ آ کر کھلاڑی باغی ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ایشین گیمز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں سے چھ ماہ گز ر جانےکے باوجود نہ نوکریوں کا وعدہ پورا کیا گیا اور نہ ہی انہی تاحال انعامی رقم مل سکی ہے۔ ثقلین کا کہنا تھا کہ ہاکی فیڈریشن اگر ان کھلاڑیوں کی مالی مجبوریاں دور کرے توکوئی بھی سرحد پار جا کر کھیلنے سے متعلق نہیں سوچے گا۔

دریں اثنا پانچ مئی سے ملائشیا کے شہر ایپوہ میں شروع ہونے والے سلطان ازلان شاہ ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی ٹیم کا تربیتی کیمپ شہر راولپنڈی میں جاری ہے۔ اس کیمپ میں پی ایچ ایف کا شوکاز نوٹس وصول کرنے والے ریحان بٹ بھی شریک ہیں۔ ریحان کو یقین ہے کہ جمعرات کو ٹیم کے اعلان سے قبل یہ سینئر کھلاڑیوں کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا۔ ریحان کا کہنا ہے کہ ان کی تمام توجہ ایونٹ پر مرکوز ہے۔

Zeeshan Ashraf

چند ماہ پہلے ہی پاکستان نے ذیشان اشرف کی قیادت میں ایشین گیمز کا ٹائٹل جیتا تھا

فیڈریشن کی سینئر کھلاڑیوں سے جواب طلبی کے بعد پاکستانی ٹیم کے نئے کپتان کا معاملہ بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کپتانی کی دوڑ میں جواں سال ڈیفنڈر محمد عمران کے علاوہ ریحان بٹ، سہیل عباس اور وسیم احمد بھی شامل ہیں۔آصف باوجوہ کے مطابق پاکستانی ٹیم کا نیا کپتان کوئی سینئر کھلاڑی ہی ہوگا تاہم انہوں نےکہا کہ کپتان کا اعلان جمعرات کو اٹھارہ رکنی ٹیم کے ساتھ ہی کیا جائےگا۔

تین بار کی چیمپئن پاکستان نے آخری مرتبہ سلطان ازلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ 2003ء میں جیتا تھا۔ اس بار ایونٹ میں پاکستان کو مشترکہ دفاعی چیمپئنز بھارت اور جنوبی کوریا کے علاوہ، عالمی چیمپئن آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور میزبان ملیشیا کے چلینج کا بھی سامنا ہوگا۔

رپورٹ: طارق سعید

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM