1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ازبک صدر کریموف انتقال کر گئے ہیں، سفارتی ذرائع

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف 78 برس کی عمر میں اسٹروک کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔خبر رساں ادراے روئٹرز کے مطابق اسے یہ بات تین سفارتی ذرائع سے معلوم ہوئی ہے۔

default

ازبکستان کے صدر اسلام کریموف

ابھی تک تاشقند حکومت کی طرف سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی۔ قبل ازیں آج جمعے کی صبح اس وسطی ایشیائی ریاست کی حکومت کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے روز سے ہسپتال میں داخل صدر اسلام کریموف کی حالت تیزی سے بگڑ گئی ہے۔ بعض سفارتی حلقوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ تاشقند حکومت آج جمعہ دو ستمبر کی شام تک کریموف کی رحلت کا اعلان کر دے گی۔

کریموف 1991ء میں سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وجود میں آنے والی ریاست ازبکستان کے صدر چلے آ رہے تھے۔ اس سے قبل وہ 1989ء سے مقامی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے طور پر ازبکستان کے حکمران تھے۔ روئٹرز کے مطابق ایک سفارتی ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، ’’ہاں ان کا انتقال ہو چکا ہے۔‘‘

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم وہ پہلے غیر ملکی رہنما ہیں جنہوں نے ازبک صدر اسلام کریموف کی رحلت پر تعزیت کی ہے۔ سابق سوویت ریاست ازبکستان کے ترکی ساتھ نسل، ثقافت اور زبان کے حوالے سے گہرے روابط ہیں۔ بن علی یلدرم نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ازبک صدر رحلت پا چکے ہیں۔

کریموف 1991ء میں سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وجود میں آنے والی ریاست ازبکستان کے صدر چلے آ رہے تھے

کریموف 1991ء میں سابق سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد وجود میں آنے والی ریاست ازبکستان کے صدر چلے آ رہے تھے

خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق قزاقستان کے صدر نور سلطان نذربائیف بھی چین کا اپنا دورہ مختصر کر کے تاشقند پہنچ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ازبک صدر اسلام کریموف نے اپنا کوئی جانشین مقرر نہیں کیا تھا اس لیے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اقتدار کے تبادلے کا فیصلہ مختصر تعداد میں سینیئر حکام اور ان کے خاندان کے لوگوں کی طرف سے بند دروازوں کے پیچھے ہوگا۔

تاہم ان تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اگر اقتدار کے تبادلے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا اور یہ معاملہ ملک کے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔ ازبکستان کی سرحد بحران کے شکار ملک افغانستان سے بھی ملتی ہے اور اسی باعث یہ اسلامی شدت پسندی کا شکار بھی ہے۔