1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ارون دتی روئے کو پاکستان مدعو کرنے کی تجویز

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کشمیر کے مسئلے پر آواز اٹھانے والی معروف بھارتی مصنفہ اور سماجی کارکن ارون دتی روئے کو مسئلہء کشمیر پر بات کرنے کے لیے پاکستان مدعو کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

Schriftstellerin Arundhati Roy

ارون دتی روئے مسئلہ کشمیر کے حق میں آواز اٹھاتی رہی ہیں

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی شیخ علاؤالدین نےآج اسمبلی کے اجلاس کے دوران ارون دتی روئے کو پاکستان مدعو کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ارون دتی روئے ایک عرصے سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھاتی آئی ہیں۔ مقامی پاکستانی میڈیا کے مطابق محنت اور وسائل کے صوبائی وزیر راجا اشفاق سرور نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اس کے سفارتی پہلوؤں پر بھی بات کی۔ ارون دتی روئے نے سن دو ہزار دس میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ کبھی نہیں رہا۔ ان کے اس بیان نے بھارت میں اختلافی بحث کو جنم دیا تھا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ بھارت برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے ہی ’نوآباد طاقت ‘ بن گیا ہے۔

روئے نے رواں برس کشمیر کے حوالے سے برطانوی اخبار ’ دی گارڈین‘ میں اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ،’’ اگر ہم واقعی اس بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم واقعی خونریزی روکنا چاہتے ہیں، تو پہلا قدم یہ ہے کہ ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکالمہ کریں۔ خیالات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں، مگر موضوع بحث آزادی ہونا چاہیے، کہ آخر کشمیریوں کے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟۔‘‘ یاد رہے کہ روئے کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں کی حمایت کرنے پر غداری کے مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ پنجاب کے صوبائی وزیر راجا اشفاق سرور نے اس اجلاس میں یہ تجویز بھی پیش کی کہ روئے کو پاکستان مدعو کرنے کے حوالے سے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا جانا چاہیے۔