1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اروندھتی رائے کی کانفرنس میں انتہا پسندوں کی ہنگامہ آرائی

عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے کو اتوار کے روز اس وقت انتہا پسند ہندوؤں کے غصے کا سامنا کرنا پڑا، جب وہ بھارتی ریاست اڑیسہ کے دارالحکومت بھوبنیشور میں ایک کانفرنس میں شریک تھیں۔

default

وہ اروندھتی رائے سے کشمیر پر دئے گئے ان کے بیان پر معذرت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم رائے ایسا کرنے سےانکار کر دیا۔ انہوں نے گزشتہ ماہ سری نگر میں ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا کبھی بھی اٹوٹ انگ نہیں رہا، جیسا کہ نئی دہلی حکومت کہتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر 'متنازعہ اور مقبوضہ خطہ' ہے۔

اجلاس میں شرکت کے بعد اروندھتی رائے کا نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی کوئی ایسا بیان نہیں دیا، جس کے بارے میں پہلے سوچا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بات پر آج بھی قائم ہیں۔

انہوں نے کہا، ’کارکنوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے اور مجھے بولنے اور لکھنے کا۔’

Arundhati Roy

اروندھتی رائے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

اروندھتی رائے کی اجلاس میں شرکت کے دوران انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ وہ ملک دشمن ہیں اور انہیں فوری طور پر ملک چھوڑ دینا چاہیے۔

پولیس کے مطابق انتہا پسند کارکنوں اور اجلاس کے منتظمین کے درمیان جھڑپ میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

انتظامیہ سے احتجاج کرتے ہوئے انتہا پسندوں کا کہنا تھا کہ وہ اس اجلاس کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ وہ اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ اروندھتی رائے کو یہاں کیوں بلایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہنگامہ آرائی کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل