1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اروم شرمیلا سولہ سال سے جاری بھوک ہڑتال ختم کر رہی ہیں

انسانی حقوق کی بھارتی کارکن اروم شرمیلا نے سولہ سال سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول وہ اپنے احتجاج کے طریقہ کار کو تبدیل کرتے ہوئے اب انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں۔

انسانی حقوق کی کارکن اروم شرمیلا کا کہنا ہے کہ مقامی انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں اور اسی وجہ سے انہوں سے تقریباً ڈیڑھ دہائی سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شرمیلا نے شمال مشرقی بھارت میں حکومتی فوج کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ انہیں منی پور کی آہنی خاتون کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ اس دوران انہوں نے زیادہ ترعرصہ ہسپتال میں عدالتی حراست میں گزارا اور انہیں ایک ٹیوب کے ذریعے زبردستی کھانا کھلایا جاتا تھا۔

چوالیس سالہ شرمیلا نے 2000ء میں منی پور میں فوج کے ہاتھوں دس عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ منی پور میں فوجی اہلکاروں کو ابھی بھی کچھ ایسے اختیارات حاصل ہیں، جن کا تعلق نو آبادیاتی دور سے ہے۔ انہوں نے انہی خصوصی اختیارات ( AFSPA) کے خلاف کھانا پینا چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس قانون کے تحت مظاہرین کو گولی ماری جا سکتی ہے، یعنی شوٹ ٹو کِل۔ دنیا بھر میں شرمیلا کو ان کے احتجاج کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقومی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا ہے۔

شرمیلا کے ایک قریبی دوست ببلو لوئبونگ بام نے بتایا،’’ وہ نو اگست سے کھانا پینا شروع کر رہی ہیں اور انہوں نے اپنے احتجاج کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔‘‘منگل کے روز شرمیلا نے عدالت کے باہر کچھ صحافیوں سے بات کی تھی اور اپنے مستقبل کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ امپھل سے انتخابات لڑیں گی۔ انہیں ہر ہفتے عدالت سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔ لوئبونگ بام کا مزید کہنا تھا کہ شرمیلا منی پور کی سڑکوں کو فوجی دستوں سے آزاد کرانے کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔