1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اردن کے سیاسی نظام میں اصلاحات کا اعلان

اردن کے حکمران شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ملکی آئین میں جلد اصلاحات لائی جائیں گی۔ ان کے بقول اس طرح پارلیمان مزید با اختیار ہو جائے گی۔

default

شاہ عبد اللہ نے کہا کہ آئین میں اصلاحات کے حوالے سے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، ان سے نہ صرف پارلیمانی نظام مضبوط ہو گا بلکہ عوام کو بھی مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔ مصر اور تیونس کی جمہوری تحریکوں کے بعد اردن کے شاہ عبد اللہ اپنے یہاں فوری طور پر سیاسی اصلاحات کا اعلان کر دیا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے اپریل میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے 1952ء کے ملکی آئین میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز تیار کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔

اس کمیٹی نےگزشتہ دنوں اپنی سفارشات شاہ عبد اللہ کو پیش کیں۔ اس موقع پر شاہی محل شاہ عبد اللہ کا کہنا تھا، ’’یہ ایک تاریخی موقع ہے اور یہ تاریخی اصلاحات اردن میں سیاسی پختگی کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔

König Abdullah begrüßt neuen Regierungschef

حکومت کو تحلیل کرنے کا اختیار شاھ عبداللہ کے پاس ہی رہے گا

اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ احمد لوظی کا کہنا تھا کہ آئین پر جامع انداز سے نظر ثانی کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کی امنگوں کو سامنے رکھتے ہوئے تبدیلی لائی جائے، جس میں جمہوری اقدار کو بھی فروغ ملے۔ پارلیمنٹ کو مزید اختیارات حاصل ہونے کے بعد وہ خود وزیراعظم کا انتخاب کر سکے گی۔ اس سے قبل وزارت عظمٰی کے لیے شاہ کی جانب سے نامزدگی ہوتی تھی۔ شاہ عبد اللہ کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کو جلد ہی پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

7 ملین کی آبادی والے اس ملک میں فلسطینی مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملک میں انتخابی عمل کودرست نہیں کیا جاتا، مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مزید یہ کہ فلسطینی نژاد شہری بہت بڑی تعداد میں آباد ہیں لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک عوام کے درمیان یہ فرق موجود رہے گا ان اصلاحات پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM