1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اردن کے اسلام مخالف مصنف کا عدالت کے باہر قتل

اردن کے دارالحکومت عمان میں اسلام مخالف مصنف ناہض حتر کو گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس مصنف پر اسلام مخالف اور توہین آمیز کارٹون شائع کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے مصنف اور صحافی کی عمر چھپن برس تھی اور ایک مسلح شخص نے عدالت کے سامنے انہیں تین گولیاں مارتے ہوئے ہلاک کر دیا۔ اردن کے مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ناہض حتر کو کیوں قتل کیا گیا ہے؟

اردن کی مشہور آن لائن ویب سائٹ الغد کے مطابق حملہ آور کا تعلق اس ملک سے نہیں ہے اور وہ اس کارروائی سے ایک روز پہلے ایک ہمسایہ ملک سے اردن میں داخل ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ جس وقت ملزم کو گرفتار کیا گیا، اس وقت اس نے اردن کا روایتی لباس پہن رکھا تھا۔

ملائیشیا: توہین مذہب کے الزام میں مقبول گلوکار گرفتار

فیس بک پر ’لائیک‘ کرنے کے جرم میں مسیحی شخص گرفتار

ایک ماہ پہلے مقتول مصنف نے فیس بک پر ایک متنازعہ کارٹون شائع کیا تھا، جس کے بعد اردن بھر میں اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اردن کے زیادہ تر مسلمانون کا اعتراض کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ناہض حتر نے توہین مذہب کی ہے۔

اس احتجاج کے بعد ناہض حتر نے اپنی پوسٹ تلف کر دی تھی تاہم ان کا کہنا تھا، ’’یہ کارٹون دہشت گردوں، ان کے خدا اور جنت کا مذاق اڑاتا ہے۔ تاہم اس میں خدا کی واحدانیت کا قانون نہیں توڑا گیا۔‘‘

اس کے بعد حکومت نے حتر کو گرفتار کر لیا تھا اور ان پر فرقہ واریت کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ رواں ماہ کے آغاز پر ایک عدالت نے ان کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا تھا لیکن ان کے خلاف مقدمہ جاری رکھا گیا۔

 مقامی میڈیا کے مطابق حتر پیشی کے لیے عدالت جا رہا تھا کہ اسے ہلاک کر دیا گیا۔ مقتول صحافی اسلام پسندی پر متعدد ناقدانہ مضامین لکھ چکا ہے۔ یہ مصنف شام میں صدر بشار الاسد کی حمایت کرنے کی وجہ سے بھی مشہور تھے۔ صدر بشار الاسد کو گزشتہ پانچ برس سے مسلح کارروائیوں کا سامنا ہے۔

DW.COM