1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اردن میں بھی مظاہرے، حکومت تحلیل

کئی ہفتوں کے احتجاج کے بعد اردن کے شاہ عبد اللہ نے حکومت تحلیل کرتے ہوئے نیا وزیراعظم نامزد کر دیا ہے۔ صدارتی محل کے مطابق سابقہ حکومت اپوزیشن کی طرف سے اصلاحات کے مطالبات کو پورا نہیں کر سکی تھی۔

default

گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری پُر زور احتجاج کے بعد اردن کے بادشاہ عبد اللہ دوم نے کابینہ کو توڑتے ہوئے سمیر رفاعی کی جگہ معروف بخت کو نیا وزیراعظم نامزد کیا ہے۔ صدارتی محل کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی حکومت ملک میں حقیقی سیاسی اصلاحات کو عمل میں لائے گی،’ بخت کا مقصد فوری طور پر سیاسی اصلاحات کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہو گا تاکہ اردن میں جمہوری اقدار کو فروغ ملے اور عوام کا معیار زندگی بلند ہو سکے۔‘

Jordanien Unruhen Kabinett Umbildung Marouf al-Bakhit

نومنتخب وزیر اعظم معروف بخت

تاہم اپوزیشن کی جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ کے مطابق نو منتخب وزیراعظم اصلاح پسند نہیں ہیں اور وہ ان کے مطالبات پورے نہیں کرسکیں گے۔ اپوزیشن جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ کے رہنما ذکی بنی رشید نے خبررساں ادارے AFP سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’بخت اصلاح پسند نہیں ہیں، اردن کو اس مخصوص بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لیے وہ ہر گز درست انتخاب نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ملکی وزیر اعظم ایسا شخص ہونا چاہیے، جس کی عوام میں عزت ہو نا کہ اس کا دامن بد عنوانی سے داغ داغ ہو۔

سابق فوجی میجرجنرل معروف بخت سن 2005ء تا 2007ء کے درمیان وزیر اعظم کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے سن 2007ء کے انتخابات منعقد کروائے تھے، جس پر اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ ملک کے بدترین انتخابات تھے، جس میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی تھیں۔ بخت اس سے قبل بادشاہ کی قومی سلامتی کے خصوصی مشیر کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں سفیر کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرچکے ہیں۔

Jordanien Unruhen Kabinett Umbildung Samir Rifai

بر طرف کیے گئے وزیر اعظم سمیر رفاعی

ملکی اپوزیشن نے منگل کو حکومتی نمائندوں سے گفتگو کے بعد بیان دیا ہے کہ وہ تیونس اور مصر کی طرح کوئی انقلاب نہیں لانا چاہتے ہیں بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں حکومت کو تبدیل کیا جائے، الیکشن قوانین میں ترامیم کی جائے اور ملکی وزیراعظم کا انتخاب عوام خود کرے۔ اپوزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسی آئینی ترامیم کی جائیں، جس کے تحت بادشاہ کے اختیارات کم ہوں اور وزیر اعظم کا انتخاب صرف بادشاہ کی ہی رضا سے نہ ہو۔

اردن میں عوام بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی اصلاحات کے لیے کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم سمیر رفاعی کو ملک کی موجودہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM