1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اردن میں بھی حکومت مخالف تحریک کا خدشہ

مشرق وسطیٰ میں سیاسی آزادی کی تحریکوں کے اثرات اب تقریباً ہر عرب ملک میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس مناسبت سے اردنی حکومت نے مظاہرہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

default

عرب ملک اردن کی بڑی اپوزیشن جماعت اسلامک ایکشن فورم (IAF) نے اتوار کے روز حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ امن و سلامتی برقرار رکھنے کا سہارا لے کر سخت سکیورٹی اقدامات کا عمل ترک کر دے۔ جمعہ کے روز ہونے والے مظاہرے کے تناظر میں اردن حکومت انتہائی سخت سکیورٹی پابندیوں کے نفاذ کا ارادہ رکھتی ہے۔ جمعہ کے روز ہونے والے مظاہرے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

اسلامک ایکشن فورم (IAF) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں حکومت کو انتباہی انداز میں مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فورم حکومت کو خبردار کرتا ہے کہ جعلی اور سخت حکومت پالیسیوں کے سائے میں مظاہروں کو روکنا مشکل ہو گا اور حکومتی افراد کا ہمسایہ ملکوں میں پیدا شدہ صورت حال سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔

Jordanien Proteste und Demonstration in Amman

اردنی حکومت کے خلاف مظاہرے کا اہتمام دارالحکومت سے تیس کلومیٹر کی دوری پر زرقا نامی قصبے میں کیا گیا تھا

اس دوران دارالحکومت عمان میں وزیر اعظم معروف بخت نے جمعہ کے دن حکومت مخالف مظاہرے کا اہتمام کرنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی کارروائیوں سے اجتناب کریں بصورت دیگر ایسے عناصر سے نمٹنا ان کی حکومت بخوبی جانتی ہے۔ عمان میں سکیورٹی معاملات کا از سرنو جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ جمعہ کے روز اردنی حکومت کے خلاف مظاہرے کا اہتمام دارالحکومت سے تیس کلومیٹر کی دوری پر زرقا نامی قصبے میں کیا گیا تھا۔ مظاہرے کے شرکاء چاقووں اور ڈنڈوں کے ساتھ جلوس میں شریک تھے۔ ان کو منتشر کرنے کے لیے جب پولیس نے کارروائی شروع کی تو یہ مظاہرین پولیس اہلکاروں پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے حملے میں کم از کم تراسی پولیس اہلکاروں کو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ بعد میں مظاہرے میں شرکت کے شبے میں ستر افراد کو پولیس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔ ان گرفتاریوں کی تصدیق ایک وکیل موسیٰ عبدالات کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ اردن کی سیاسی جماعت اسلامک ایکشن فورم کو اخوان المسمون کا مسلح گروپ خیال کیا جاتا ہے۔ اخوان کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔

اس دوران اردن کے مذہبی حلقوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں، ٹریڈ یونینوں اور بائیں بازو کے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے گزشتہ تین ماہ کے دوران تین جمہوریت نواز مظاہروں پرسکیورٹی اہلکاروں سے حملہ کروایا تھا۔ شام کے اندر جمہوریت نوازی کی تحریک کا مرکز درعا شہر اردن کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت امتیاز احمد

DW.COM