1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اردن، مہاجر بچوں کے اسکول جانے میں مشکلات

ہیومن رائٹس واچ نے اردن پر زور دیا ہے کہ وہ مہاجر بچوں کی اسکولوں تک رسائی ممکن بنانے کے لیے اپنے ملکی قواعد وضوابط میں تبدیلی لائے۔ اس ملک میں پناہ گزین مہاجر بچوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی سہولیات سے محروم ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ اردن میں مہاجر بچوں کو اسکولوں میں داخلے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جبکہ ایسے بچوں کی شادیوں کے روکنے کی کوشش بھی کی جانی چاہیے۔

اس ادارے نے کہا ہے کہ اردن کی حکومت کو اس حوالے سے اپنے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ تعلمی سال کے دوران زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کی سہولیت میسر آ سکے۔ ہیومن رائٹس واچ نے بتایا ہے کہ اردن میں موجود مہاجر بچوں میں سے ایک تہائی اسکول میں رجسٹرڈ نہیں ہو سکے ہیں۔

اردن میں ایسے مہاجرین جو باقاعدہ کیمپوں میں نہیں رہتے، انہیں اپنے بچوں کو اسکول میں رجسٹر کرانے کے لیے خصوصی ’سروس کارڈز‘ دکھانے ہوتے ہیں، جو وزارت داخلہ جاری کرتی ہے۔

تاہم ایسےمہاجرین جو جولائی سن 2014 میں عارضی پناہ گاہوں کو باقاعدہ طریقے سے چھوڑ چکے ہیں، انہیں مزید ایسے کارڈز جاری نہیں کیے جاتے۔ ایسے مہاجرین کو صرف اسی صورت میں ’سروس کارڈ‘ جاری کیے جاتے ہیں، جب اردن کا پینتیس سال سے زائد عمر کا کوئی شہری ان کی ضمانت دے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جب مہاجرین سے متعلق پرانے قواعد تبدیل نہیں کیے جاتے، وہاں موجود مہاجر بچوں کو تعلیم کے حصول میں رکاوٹیں برقرار رہیں گی، ’’ان پرانے قوانین کے مطابق ایسے مہاجر بچوں کو بھی اسکول میں جگہ نہیں مل سکتی ، جو تین برس یا اس سے زائد عرصے سے کسی اسکول میں رجسٹر نہیں ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق اردن میں مجموعی طور پر دو لاکھ چھبیس ہزار ایسے بچے رجسٹر ہیں، جن کی عمریں اسکول جانے والی ہیں۔ تاہم ان میں سے اسّی ہزار بچے گزشتہ برس اسکول میں رجسٹر نہیں ہو سکے تھے۔

Syrien Flüchtlinge Frau im Zaatari Flüchtlingslager in Jordanien

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اردن میں بالخصوص مہاجر لڑکیوں کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے

ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ میں مہاجر بچوں کی شادیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2011 کے اعداد وشمار کے مقابلے میں اب اردن میں مقیم شامی مہاجرین میں بچوں کی شادیوں کی شرح میں بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ شرح اس وقت بتیس فیصد بتائی گئی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اردن میں بالخصوص مہاجر لڑکیوں کی صورتحال زیادہ تشویشناک ہے، جن کے والدین انہیں خوف کے مارے اسکول بھیجنے سے کتراتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق شام میں خانہ جنگی سے قبل وہاں 22.4 ملین نفوس آباد تھے، جن میں سے 4.8 ملین تشدد اور شورش کے باعث ملک سے فرار ہو چکے ہیں جبکہ 8.7 ملین افراد شام کے اندر بھی بے گھری کا شکار ہیں۔