1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ارجنٹائن کے سابق آمر جنرل خورخے کو عمر قید

جنوب امریکی ملک ارجنٹائن کے سابق فوجی آمر خورخے ویڈیلا کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

default

85 سالہ خورخے پر بائیں بازو کے باغیوں کے خلاف خونریز ’ڈرٹی وار‘ میں انسانیت سوز اقدامات کا الزام تھا۔ اس سابق فوجی سربراہ نے 1976ء تا 81ء کے دوران ارجنٹائن پر حکمرانی کی تھی۔

خورخے نے اس عرصے کے دوران کئے گئے جرائم کی مکمل ذمہ داری قبول کی مگر وہ مُصر رہےکہ انہیں غیر منصفانہ طریقے سے سیاسی قیدی بنایا گیا ہے۔ عمر قید کی سزا سنانے والی عدالت کی جانب سے انہیں ریاستی دہشت گردی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

Argentinien Geschichte Militärjunta Emilio Massera gestorben

24 مارچ 1976ء کو اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے

انہوں نے 24 مارچ 76ء کی فوجی بغاوت میں ازابیل پیرون کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ ان کی جابرانہ آمریت میں 30 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہوئے۔ بتایا جاتا ہےکہ فوجی حکومت کے مخالفین کو ہیلی کاپٹروں میں بھر کر رات کے اندھیرے میں سمندر میں پھینک دیا جاتا تھا۔ ارجنٹائن بھر میں پانچ سو سے زائد خفیہ عقوبت خانے قائم کئے گئے تھے، جہاں محصور افراد پر سخت جسمانی تشدد کیا جاتا تھا۔

ارجنٹائن کی فوجی حکومت 1983ء میں اس وقت ختم ہوئی، جب جنرل خورخے کے بعد حکومت سنبھالنے والے لیوپولڈو گالٹیئیری نے فالک لینڈ کے جزائر پر برطانیہ سے جنگ لڑی۔ عدالت کی جج ماریا البا مارٹینیز نے سابق فوجی جنرل کو سول قوانین کے تحت پابند سلاسل رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

Argentinien Putsch 1976

جنرل خورخے کے دور میں 30 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہوئے

جنرل خورخے کے ساتھی جنرل لوسیانو مینڈیز کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جنرل مینڈیز فوجی آمریت کے دور میں ارجنٹائن کے 23 میں سے 11 صوبوں کا انتظام سنبھال رہے تھے۔ ان دونوں جرنیلوں کے بشمول مجموعی طور پر 30 افراد پر، جن میں سے بیشتر فوجی اہلکار تھے، یہ مقدمہ چل رہا تھا۔ دیگر سزا پانے والوں کو قدرے نرم سزائیں دی گئی ہیں۔

ماضی کے اس طاقتور فوجی جنرل کو 1985ء میں بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی،جو پانچ سال بعد صدرکارلوس مینیم نے بخش دی تھی۔ 2007ء کے ایک عدالتی فیصلے میں سزا بخشنے کو غیر آئینی قرار دیا گیا، جس کے بعد حالیہ مقدمے کی راہ ہموار ہوئی۔

رپورٹ :شادی خان سیف

ادرت : عدنان اسحاق

DW.COM