1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اربوں ڈالر کی منجمد رقوم تک رسائی دی جائے، ليبيا کے باغی

ليبيا کے باغيوں کی قومی عبوری کونسل يہ مطالبہ کر رہی ہے کہ قذافی حکومت کی جو رقوم بيرونی ممالک ميں منجمد ہيں، ان تک باغيوں کو رسائی دی جائے۔ ليکن ماہرين ميں اس پر اختلاف ہے کہ کيا يہ رقوم ابھی سے ان کو دينا صحيح ہے۔

ليبيا کے باغی طرابلس ميں

ليبيا کے باغی طرابلس ميں

ليبيا کا کتنا پيسہ ملک سے باہر ہے، اس کے بارے ميں يقين سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ اندازہ ہے کہ يہ 80 سے 150 ارب ڈالر کے درميان ہے۔ اس پيسے کا کم از کم کچھ حصہ تلاش کر کے اسے منجمد کيا جا چکا ہے۔ اب ليبيا کی قومی عبوری کونسل ان رقوم کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جرمنی کی فاؤنڈيشن برائے علوم و سياست ميں سلامتی کے شعبے کے سربراہ مارکوس کائم کا کہنا ہے: ’’ اس وقت ليبيا کی تعمير نو کے ليے مالی وسائل سب سے کم اہم ہيں۔ ليبيا ايک دولتمند ملک ہے۔ اس وقت سلامتی کو بحال کرنے اور سياسی اداروں کے قيام کی سب سے زيادہ ضرورت ہے۔‘‘

طرابلس ميں عورتيں ايک اسکول کے باہر، جس ميں قذافی کی حمايت کے شبے ميں افراد باغيوں کی حراست ميں ہيں

طرابلس ميں عورتيں ايک اسکول کے باہر، جس ميں قذافی کی حمايت کے شبے ميں افراد باغيوں کی حراست ميں ہيں

ليکن برلن کی فری يونيورسٹی کے سياسی علوم اور اقتصاديات کے ليکچرار حمادی العونی کا خيال اس سے مختلف ہے: ’’قومی عبوری کونسل کو ان رقوم کی ضرورت بہت عرصے سے ہے۔ سرکاری ملازمين کی تنخواہيں ادا کرنے اور بہت سے دوسرے اخراجات کے ليے بھی پيسہ  کم پڑ چکا ہے۔‘‘

العونی نے کہا کہ ليبيا کو طبی آلات، ادويات اور عملے کی بھی ضرورت ہے۔

اب تک اقوام متحدہ ليبيا کی منجمد رقوم ميں سے 1.5 ارب ڈالر تک رسائی کی اجازت دے چکا ہے۔ يہ رقم امريکہ ميں منجمد تھی۔

ليبيا کی قومی عبوری کونسل کے قائد عبدالجليل دوہہ ميں نيٹو سے مذاکرات کے دوران

ليبيا کی قومی عبوری کونسل کے قائد عبدالجليل دوہہ ميں نيٹو سے مذاکرات کے دوران

ليکن يورپی يونين ابھی تک قذافی حکومت کے اربوں ڈالرز تک دوبارہ رسائی پر اتنی آسانی سے تيار نہيں ہو رہی ہے۔ جرمن پارليمان کی خارجہ امور کی کميٹی اور مشرق وسطٰی کے امور کے ايک ماہر يوآخم ہيورسٹر کا کہنا ہے کہ اہم ترين بات يہ ہے کہ پہلے ليبيا ميں ايسے اداروں کا قيام ضروری ہے، جو اس پيسے کو موزوں طور پر استعمال کرنے کی صلاحيت رکھتے ہوں۔

يورپی يونين کے حلقوں ميں اس پر غور کيا جا رہا ہے کہ کيا صاف ضمير کے ساتھ باغيوں کو يہ رقوم دی جا سکتی ہيں۔ ان رقوم کے استعمال کی نگرانی کے ليے اقوام متحدہ کے ايک کميشن کے قيام کی تجويز بھی زيرغور ہے۔

رپورٹ: ٹوماس لاچان / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک

 

DW.COM