1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اربوں ڈالر کی منتقلی : پاکستانی فوریکس کمپنیوں کے خلاف آپریشن

پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے نے ان کرنسی ڈیلروں کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا ہے جن پر زر مبادلہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے۔

default

پاکستان کی ایک بڑی منی ایکس چینج کمپنی ’خانانی اینڈ کالیا‘ کے مالکان کو میں حراست میں لیا گیاہے۔

لاہور کراچی ، گوجرانوالہ ، پشاور اورکوئٹہ سمیت ملک کے کئی شہروں میں کرنسی ڈیلروں کے دفاتر پر چھاپوں میں ان کا کاروباری ریکارڈ قبضے میں لینے کے علاوہ بعض کرنسی ڈیلروں اور ان کے ملازمین کو گرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی منی ایکس چینج کمپنی ’خانانی اینڈ کالیا‘ کے مالکان کوحراست میں لیا گیاہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے حکام کسی خفیہ مقام پر ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کرنسی ڈیلروں نے پچھلے دو ہفتوں کے دوران اربوں ڈالر کی رقم پاکستان سے باہر بھجوانے میں مدد فراہم کی ہے۔

Pakistan Asif Ali Zardari neuer Präsident

پاکستان میں یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور محمد نواز شریف سمیت تمام سیاستدان اپنی بیرون ملک رکھی گئی دولت ملک میں واپس لے آئیں تاکہ زر مبادلہ کے ذخائر کو کوئی سہارا مل سکے۔

پاکستان میں اقتصادی امور کے ممتاز تجزےہ نگار منصور احمد نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ’’جہاں تک اس معاملے کی قانونی پوزیشن کا تعلق ہے تو اس میں حقیقت یہ ہے کہ خود حکومت نے کرنسی ڈیلروں کو لائسنس جاری کر کے غیر ملکی کرنسی کو ملک سے باہر بھجوانے کی اجازت دے رکھی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ وہ کرنسی ڈیلر جن کے خلاف حکومت کاروائیاں کر رہی ہے وہ صرف غیر ملکی کرنسی کو باہر بھجوانے کا ذریعہ بنے ہیں ۔ ‘‘ ان کے بقول حکومت ان لوگوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتی جنہوں نے ان کرنسی ڈیلروں کے ذریعے پیسہ باہر بھجوایا ہے۔’’پاکستان کے ریگولیٹری ادارے بہت کمزور ہیں اور اس حوالے سے حکومت کی اپنی نا اہلی بھی سامنے آ گئی ہے۔ اس سارے کیس میں حکومت کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ ہماری حکومت کے پاس یہ اعداد و شمار بھی نہیں ہیں کہ غیر سرکاری ذرائع سے کتنا پیسا ملک کے اندر اور باہر ٹرانسفر ہو رہا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ پاکستان میں ہنڈی یا حوالے کے ذریعے رقوم کی ترسیل عام ہے ۔کوئی بھی شخص ہنڈی کے ذریعے پیسے باہر بھجوا سکتا ہے۔ کرنسی ڈیلر رقوم باہر بھجوانے کے جائز اور ناجائز دونوں طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ ہنڈی آپریٹر کے ساتھ ساتھ منی ایکسچینجرMoney Exchanger کے طور پر بھی ، کوئی حکومتی ادارہ ایسا ہو کہ جو ان کو چیک کر تا ہو‘۔

کرنسی ڈیلروں کے خلاف سرکاری ایکشن ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے۔ جب ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور بیرون ملک سے امداد ملنے کی زیادہ تر توقعات پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ اقتصادی تجزیہ نگار منصور احمد کے مطابق حکومت کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ اس آس پر بیٹھے رہے ہیں کہ باہر سے پیسے مل جائیں گے۔ اور انہوں نے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے ہیں جن سے زرمبادلہ یا پیسوں کا باہر جانا روکاجاسکے یا باہر سے منگوائی جانے والی غیر ضروری در آمداد کو روکا جا ئے۔ جب یہ اقدامات نہیں کئے گئے تو اب حکومت بد حواس ہو کر کرنسی ڈیلروں کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ منصور احمد کے بقول حکومتی اہلکاروں کا خیال ہے کہ کرنسی ڈیلروں کو ڈرا دھمکا کر شاید وہ پانچ چھ سو ملین ڈالر ملک میں واپس لانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

ادھر فوریکس ایسوی ایشن کے عہدیداران نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں ہراساں کرنے کی سرکاری کارروائیاں بند نہ کی گئی تو وہ پھر اپنے کاروبار بند کر دےں گے اور اس سے قانونی طریقے سے ملک میں زرمبادلہ آنے کا سلسلہ بھی بند ہو سکتا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ زر مبادلہ کی شدید کمی کی وجہ سے پریشان حال پاکستان میں یہ مطالبہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور محمد نواز شریف سمیت تمام سیاستدان اپنی بیرون ملک رکھی گئی دولت ملک میں واپس لے آئیں تاکہ زر مبادلہ کے ذخائر کو کوئی سہارا مل سکے۔