1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اربوں ڈالرز کے غبن کے مجرم میڈوف کو سزا

اربوں ڈالرز کے غبن کے جرم میں امریکی سرمایہ کار بیرنارڈ میڈوف کو 150 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ایک اندازے کے مطابق گذشتہ بس سالوں کے دوران بیرنارڈ میڈوف نے اپنے صارفین کو 13 سے 65 ارب ڈالرز کا دغا دیا ہے۔

default

برنارڈ میڈوف کی لالچ کی وجہ سے نہ صرف دنیا کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ساتھ ہی درجنوں خاندانوں کو مشکل وقت کا سامنا رہا

نیو یارک کے ایک جج ڈینی چن نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ میڈوف نے ایک طویل عرصے تک دوسروں کے پیسوں پر پرتعیش زندگی گزاری اور ان کے اس عمل سے عوام کے اعتماد کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گذشتہ بس سالوں کے دوران بیرنارڈمیڈوف نے اپنے صارفین کو 13 سے 65 ارب ڈالرز کا دغا دیا ہے۔

Ira Sorkin

میڈوف کے وکیل ایرا سورکن نے نے اپنے موکل کی برائیوں کو تسلیم کرتے ہوئے بارہ سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا

عدالت کے مطابق 90 ء کی دہائی سے میڈوف نے سرمایہ کاری کے لئے مختلف افراد سے پیسے اکھٹے کرنا شروع کئے تھے اور انہیں رقم فراہم کرنے والوں میں زیادہ تر امریکہ کی یہودی کمیونٹی تھی۔ میڈوف نے اس رقم کی سرمایہ کاری اسٹاک مارکیٹ یا کسی اور منافع بخش منصوبے میں نہیں کی بلکہ اس میں سے اربوں ڈالرز ایک اکاؤنٹ میں جمع کرا دیئے اور جب کسی صارف نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا تو میڈوف نے کسی نئے سرمایہ کار کے پیسے سے یہ ادائیگی کی۔ مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ اپنے کسٹمرز کو زبردست منافع ادا کرتے رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی اس دھوکا دہی کی اسکیم میں اربوں ڈالرز کی جعلی بینک اسٹیٹمنٹس بھی بنوائی تھیں۔

کمرہ عدالت میں موجود افراد نے فیصلےپر تالیا ں بجائیں۔ نیوجرسی کےشہر فورٹ لی کی سابق میئر برٹ روس کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے کہ جنہیں بیرنارڈ میڈوف نے اپنے دھوکا دہی کے جال میں پھانسا تھا۔ انہیں اس دوران پانچ ملین یورو کا نقصان ہوا۔ عدالت فیصلے پرانہوں نے کہا کہ یہ ایک خوشی کی گھڑی ہے۔ یہ فیصلے انصاف ہے نہ کہ کوئی انتقامی کارروائی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالت میں تالیاں بجانے والوں کےخلاف نہیں ہیں لیکن خود انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

Bernard L. Madoff Investment Securities

انیس سو نناوے میں کھینچی گئی اس تصویر میں میڈوف انویسٹمنٹ سیکیورٹیز کے چیئر مین میڈوف میں اپنے عالیشان دفتر میں

برنارڈمیڈوف کی لالچ کی وجہ سے نہ صرف دنیا کو کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ساتھ ہی درجنوں خاندانوں کو مشکل وقت کا سامنا رہا۔ بیرنارڈ کی دھوکا دہی کے شکار افراد نے اسے ایک درندہ صفت انسان کہا اور کمرہ عدالت میں موجود ان میں بیشتر افراد نے آنسوؤں کے ساتھ اپنی آب بیتی سنائی۔

ایک متاثرہ خاتون یوڈتھ ویلنگ نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں جج نے متاثرین کے سینکٹروں کی تعداد میں لکھے گئےخطوط کو پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ سنایا ہے۔ یوڈتھ نے مزید کہا کہ جج اس فیصلے سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے رویہ کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی ان کے خیال میں اس سے لوگوں کے مالیاتی منڈیوں پر بھروسے کو بحال کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی۔

وکیل صفائی ایرا سورکن نے اپنے موکل کی برائیوں کو تسلیم کرتے ہوئے بارہ سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ میڈوف کو گذشتہ برس دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور مارچ 2009 میں اکہتر سالہ میڈوف نے اپنے اوپر لگائے گئے الزمات کا اعتراف کر لیا تھا۔ میڈوف کے خاندان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ 80 ملین ڈالرز کی جائیداد حکومت کے حوالے کریں۔ ساتھ ہی وہ سرمایہ کار جومیڈوف کی کمپنی کے دیولیہ ہونے سے قبل اپنی رقوم واپس لینے میں کامیاب ہو گئے تھے ان سے منافع کا کچھ حصہ واپس کرنے کے لئے بھی کہا جا سکتا ہے۔

میڈوف نے عدالت میں سب کے سامنے معافی مانگی۔ امریکہ کی تاریخ کے اس سب سے بڑے مالیاتی فراڈ کے مجرم بیرنارڈ میڈوف اب اپنی بقیہ زندگی سلاخوں کے پیچھے گزاریں گے۔