1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اذیت رسانی کے مرکز میں لگنے والی نمائش

مشرقی یورپی ملک رومانیہ میں ایک سابقہ جیل میں آرٹ پینٹنگز کی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ سابقہ جیل کمیونسٹ دور میں سیاسی قیدیوں پر ٹارچر یا اُن کی ماورائے قانون ہلاکتوں کے لیے بدنام تھی۔

جنوبی رومانیہ کی سابقہ جیل پیٹیسی میں گیارہ سنگ تراشی اور اُبھری نقاشی کے خوبصورت نمونے رکھے گئے ہیں۔ یہ نمائشی اشیاء نمائش دیکھنے والوں کو خاص طورسے سن 1949 سے لے کر سن 1951 کے دوران اس جیل میں مقید قیدیوں پر ہونے والے تشدد اور اُن کی غیرقانونی ہلاکتوں کی یاد دلائیں گے۔

نمائش میں رکھے گئے سنگتراشی اور دھات یا لکڑی پر ابھرے ہوئے نقوش کے تمام نمونے اُس خوفناک دور سے متعلق ہیں۔

امریکی مجسمہٴ آزادی کے پیچھے ایک عرب خاتون کا تصور؟

ہٹلر کے مجسمے کی قیمت لاکھوں ڈالر

مذکورہ جیل میں رکھے گئے قیدیوں کے ساتھ ہونے والی اذیت رسانی  اور تشدد کے عمل کو ’پیٹیسی ایکسپیریمنٹ‘ قرار دیا جاتا ہے۔ ان قیدیوں کو کمیونسٹ حکومت کی مخالفت کرنے کے سبب ٹارچر کرنے کے ساتھ ساتھ ذلیل و رسوا بھی کیا جاتا تھا۔

قید کے دوران مار پیٹ کے علاوہ ان قیدیوں کو انسانی فُضلہ کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا اور انہیں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے تھے اور بھوکا پیاسا بھی رکھا جاتا تھا۔ ان قیدیوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں معلومات جیل حکام کو فراہم کریں۔  اذیت رسانی اور تشدد کے سبب کم از کم ایک سو قیدیوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

Rumänien Kunstwerk Weisheit der Erde von Constantin Brancusi (picture-alliance/AP Photo/V. Ghirda)

رومانیہ میں سنگ تراشی و مجسمہ سازی کو پسند کیا جاتا ہے

اس نمائش کو دیکھنے والوں میں اُس دور کے سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔ پیٹیسی جیل میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کو مختلف اوقات میں مقید کیا گیا تھا۔ ان میں کئی کمیونسٹ دور سے قبل کے دانشور اور سیاسی کارکن تھے۔ یہ جیل سن 1964 تک فعال رہی اور جیل کے تمام قیدیوں کو اُس وقت رہا کر دیا گیا جب انہیں عام معافی دے دی گئی تھی۔

نمائش میں رکھے گئے سنگ تراشی اور منبت کاری کے نمونوں میں بنیادی رنگ وہی استعمال کیا گیا جو جیل کی دیواروں کا ہوا کرتا تھا۔ ایک سنگ تراش کاتالین بادارُو نے جیل کی راہداریوں کو اپنے نقوش سے سجایا ہے۔ بادارُو نے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ جو اس جیل میں لائے گئے تھے، وہ بہت بہادر اور طاقتور تھے، کیونکہ اُس دور کی حکومت نے اُن کی ہمت اور قوت کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی اور آخر کار قیدیوں کا حوصلہ جیت گیا۔

DW.COM