1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اذلان شاہ ٹورنامنٹ، پاکستانی ہاکی ٹیم کا ایک جائزہ

سات سال بعد اذلان شاہ کپ میں پاکستانی ہاکی ٹیم اپنے چوتھے ٹائٹل سے اس وقت محروم ہوئی، جب منزل بالکل قریب آ چکی تھی۔ ٹیم مینیجر شکست کے باوجود ٹیم کی کارکردگی کو ملکی ہاکی کے لیے اچھا شگن سجھتے ہیں۔

default

پاکستانی ٹیم تین مرتبہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ جیت چکی ہے

ایپوہ میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو لوہے کے چنے چبوانے والی پاکستانی ٹیم نے روایتی حریف بھارت کے خلاف دو برس کے صبرآزما انتظار کے بعد حاصل ہونے والی پہلی کامیابی کے علاوہ دفاعی چیمپئن جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ اور میزبان ملائشیا کو بھی زیر کیا۔ البتہ برطانیہ اور آسٹریلیا کے خلاف پاکستان ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

سابق کپتان اور ماضی میں فلائنگ ہارس کے نام سے عالمی شہرت پانے والے سابق کپتان سمیع اللہ خان نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی کو امید نہیں تھی کہ پاکستان دو میچ ہارنے کے بعد فائنل میں پہنچے گا مگر کھلاڑیوں نے قابل تعریف کھیل پیش کیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اذلان شاہ کپ جیتنے والی آسٹریلوی ہاکی ٹیم سولہ نئے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جبکہ بھارت نے بھی ایپوہ میں سات نئے چہرے متعارف کرائے تھے۔

Flash-Galerie Sport Jahresrückblick 2010

اذلان شاہ ٹورنامنٹ میں بھارت بھی پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانے والوں میں شامل ہے

اسی لیے سابق کپتان اصلاح الدین جن کی قیادت میں پاکستان ہاکی ٹیم نے ستر کے عشرے میں فتوحات کا گرینڈ سلام مکمل کیا تھا، رنرز اپ رہنے کے باوجود گرین شرٹس کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش سمجھتے ہیں۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے اصلاح الدین کا کہنا تھا کہ باقی ٹیمیں اس نان رینکنگ ٹورنامنٹ میں چمپئنز ٹرافی اور اولمپکس کی تیاری کرنے کی غرض سے آئی تھیں مگر پاکستان نے اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جیت کی غرض سے اپنی طاقتور ٹیم میدان میں اتاری البتہ پھر بھی بھرم قائم نہ رہ سکا۔ سابق اولمپئن اور قومی سلیکٹر ارشد چوہدری اصلاح الدین سے ایک سو اسی درجے مختلف رائے رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ’’ ہم نے بھی تین نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا اور سینئرز کو کوچ نے میچوں میں وقفے وقفے سے آزمایا۔۔ ایشین گیمز کے بعد اذلان شاہ کپ میں بھی پاکستان کا ایشیائی حریفوں کو ناک آؤٹ کرنا یورپی ٹیموں کے خلاف اس کی کامیابیوں کی ضمانت نہ بن سکا۔ اس بابت سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ بھارت اور ملائشیا جیسی ٹیمیں جنکی عالمی رینکنگ میں پوزیشن آٹھ کے بعد ہے، کو ہرانے کے بعد بلندیوں کے معتلق نہیں سوچا جا سکتا۔ پاکستان ٹیم کی طاقت کا اندازہ اس سال بھارت میں ہونے والی چمپئنز ٹرافی میں ہو گا، جہاں اگر اس نے پہلے چار میں جگہ پائی تو لندن اولمپکس کے سیمی فائنل کے معتلق سوچا جا سکتا ہے۔

Pakistanischer Hockeyspieler Sohail Abbas

ٹیم میں سینئر کھلاڑیوں کی شمولیت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

لندن اولمپکس میں ابھی ایک سال سے بھی زیادہ کا عرصہ باقی ہے اس لیے اذلان شاہ کپ میں سہیل عباس کے کئے گئے سب سے زیادہ چھ گولز اور شکیل عباسی کے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار دیے جانے کے باوجود سمیع اللہ ان ناقدین میں شامل ہیں، جو ٹیم سے عمر رسیدہ کھلاڑیوں کی بے دخلی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ’’ یہ کھلاڑی اپنا عروج دو ہزار آٹھ میں گزار چکے ہیں، جو میرے لیے سب سے تشویش ناک بات ہے اور فیڈریشن کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہے‘‘۔ آئر لینڈ میں ہونے والا چار قومی ٹورنامنٹ پاکستان ہاکی ٹیم کی امسال اگلی اسائنمنٹ ہو گا۔

رپورٹ : طارق سعید، لاہور

ادارت: عدنان اسحاق