1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اختلافات سہی مگر شامی تنازعے پر ایران کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، ترکی

ترکی کی جانب سے اتوار کے روز اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ وہ شامی تنازعے کے حل کے لیے تہران کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ ایران اور ترکی اس تنازعے میں دو مختلف نکتہ ہائے نظر کے حامل ہیں۔

شامی میں گزشتہ پانچ برس سے جاری خانہ جنگی میں ترکی اب تک باغیوں کی حمایت کرتا آیا ہے، جب کہ ایران اور روس شامی صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

ترکی کی جانب سے یہ بیان ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے دورہء انقرہ کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ اپنے اس دورے میں ظریف نے ترک وزیرخارجہ مولت چاؤس آؤکلو کے ساتھ ملاقات کی جب کہ وہ اب ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ مل رہے ہیں۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد کسی اعلیٰ غیر ملکی عہدیدار کے یہ پہلا دورہء ترکی ہے۔

جواد ظریف یہ دورہ ایک ایسے موقع پر کر رہے ہیں، جب کہ چند ہی روز قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کی۔ دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کے تناظر میں یہ ملاقات انتہائی اہم قرار دی جا رہی تھی، جس کے بارے میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس نومبر میں اپنی فضائی حدود کا الزام عائد کرتے ہوئے ترکی نے روسی جنگی طیارہ مار گرایا تھا، جس کے بعد روس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

Russland Recep Tayyip Erdogan und Wladimir Putin

چند روز قبل ایردوآن نے پوٹن سے ملاقات کی ہے

شامی تنازعے میں ایران اور ترکی دو مختلف فریقین کی حمایت کرتے ہیں۔ ترکی کا اصرار رہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد اقتدار سے الگ ہو جائیں، جب کہ ایران اسد حکومت کا بڑا حامی ہے اور اسے عسکری معاونت بھی فراہم کرتا آیا ہے۔

چاؤس آؤلو نے جمعے کے روز جواد ظریف کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا، ’’ہم شام کے موضوع پر قریبی تعاون کریں گے۔ شامی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے موضوع پر ترکی اور ایران کا موقف ایک ہی ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا، ’’کچھ معاملات میں ہمارے درمیان اختلافات ہیں، مگر ہم نے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ہم شامی تنازعے کے مستقل حل کے لیے ایران کے تعمیری کردار کو نہایت اہم سمجھتے ہیں۔‘‘

مبصرین کے مطابق ایردوآن کے دورہء روس کے بعد ماسکو اور تہران دونوں کی خواہش ہو گی کہ وہ ترکی کے شام کے موضوع پر اختلافات میں کمی لائیں۔

ترک وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد جواد ظریف نے بھی کہا کہ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ شامی تنازعے کا حل شامی عوام کی مرضی کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ شامی عوام ہی کو اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کا حق حاصل ہے۔