1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احمد آباد بم دھماکے، مسلمان پھر خوفزدہ

احمد آباد کی مسلمان آبادی کو ڈر ہے کہ کہیں سن 2002ء کا دَور پھر سے نہ لَوٹ آئے، جب مسلمانوں کو ہندو آبادی کے شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور دو تا تین ہزار افراد مارے گئے تھے، جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔

default

سنسنی خیز لمحات: خصوصی پولیس کا ایک اہلکار ایک بم کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

26 جولائی ہفتے کے روز مغربی بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں پَے در پَے کئی بم دھماکوں میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد سے شہر کی فضا شدید تناؤ کا شکار ہے۔

مسلمان خاتونِ خانہ طاہرہ بی اُمید کر رہی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہرائے گی۔ چھ سال پہلے مشتعل ہندوؤں کے غیض و غضب کا نشانہ بننے والی حساس آبادی ناروڈا پاٹیہ میں اپنے گھر میں موجود طاہرہ بی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اُس نے ہندو مسلم فسادات سب سے پہلے اُس وقت دیکھے تھے، جب وہ خود صرف دَس برس کی تھی اور پھر سن 2002ء میں دیکھے اور یہ کہ وہ خوف کے احساس سے عاری ہو چکی ہے۔

’’ہم کب تک کتوں اور بلیوں کی طرح خوفزدہ حالت میں اور بھاگتے ہوئے زندگی گذاریں گے۔ جو ہونا ہے، سو ہونا ہی ہے، ہمیں بہرحال اپنی زندگی کی گاڑی آگے بڑھانی ہے۔‘‘

Anschläge in Indien

احمد آباد میں لواحقین بم حملوں میں مرنے والے ایک شخص کی لاش کے پاس کھڑے ہیں۔

2002ء کے فسادات کی آگ اُس واقعے کے نتیجے میں بھڑکی تھی، جس میں 59 ہندو یاتری اپنی ریل گاڑی کو آگ لگنے کے باعث موت کا شکار ہو گئے تھے۔ اِس آتِش زدگی کے لئے شروع میں مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرایا گیا لیکن بعد ازاں کی جانے والی تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ یہ آگ حادثاتی طور پر لگی تھی۔

ریاست گجرات کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر کی جانے والی بہت سی تحقیقی رپورٹوں سے یہی بات سامنے آئی کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اِسی لئے ہفتے کے بم دھماکوں کے بعد فوری طور پر تمام حساس مقامات پر پولیس اور فوج کے سپاہی تعینات کر دئے گئے، تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامے کو جلد از جلد روکا جا سکے۔

Indien Alarmbereitschaft nach Anschlag

بنگلور اور احمد آباد کے بم دھماکوں کے بعد سرینگر میں بھی حفاظتی انتظامات مزید سخت۔ ایک بھارتی پولیس اہلکار ایک کشمیری کی تلاشی لے رہا ہے۔

احمد آباد میں ہفتے کے روز کم از کم سولہ مقامات پر ہونے والے دھماکوں میں پچاس کے قریب افراد ہلاک اور 160 سے زیادہ زخمی ہو ئے ہیں۔

اِدھر جرمن اخبار فرانکفرٹر الگمائنے نے بھارت میں تازہ بم دھماکوں پر اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ اِس طرح کے ہر واقعے کے بعد مرکزی حکومت کو اِس طرح کے الزامات سننا پڑتے ہیں کہ وہ چوکنا نہیں تھی، حالانکہ یہ سب لغو سیاسی بیان بازی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سخت اقدامات کرتے ہوئے دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اِس کا اندازہ ہمسایہ ملک پاکستان کی صورتِ حال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اخبار کے مطابق چونکہ بھارت ہر معاملے میں پاکستان سے الگ نظر آنا چاہتا ہے، اِس لئے اِس معاملے میں بھی اُسے پاکستان کی غلطیاں نہیں دہرانی چاہییں۔

DW.COM