1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احمدی نژاد کا بیان ’نفرت انگیز‘ ہے: اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران امریکہ میں گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے دئے گئے بیان کو جارحانہ قرار دیا ہے۔

default

امریکی صدر نے اپنے ایرانی ہم منصب کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محمود احمدی نژاد کے اس بیان سے نو سال قبل ان حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو تکلیف پہنچی ہے۔ ایرانی صدر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے سالانہ خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں میں ’خود امریکی حکومت ملوث تھی۔‘

دریں اثناء امریکی صدر کے اس مذمتی بیان پر اپنے ردعمل میں محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ’’تحمل سے دوسروں کی بات سننی چاہئے۔‘‘

ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے اپنے خصوصی انٹرویو میں امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ ایرانی صدر کے اس بیان سے ایران دنیا میں مزید تنہا ہو گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ یہ بیان ’’جارحانہ اور نفرت انگیز‘‘ ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس خصوصی انٹرویو کے کچھ حصے میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے ہیں۔

Mahmud Ahmadinedschad Millenniums-Gipfel

احمدی نژاد جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران

’’خاص طور پر خود مین ہیٹن کے علاقے میں، گراؤنڈ زیرو سے تھوڑے سے فاصلے پر ایسا بیان تکلیف دہ ہے، جہاں بہت سے خاندانوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ اس بیان کے حق میں کوئی قابل قبول وضاحت نہیں دی جا سکتی۔‘‘

جمعرات کے روز جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ایرانی صدر احمدی نژاد نے کہا تھا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں میں القاعدہ کے ملوث ہونے سے متعلق تمام تر دعوے امریکی انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دنیا بھر میں بہت سے افراد بشمول امریکی شہریوں کے، یہ سمجھتے ہیں کہ ان حملوں کے در پردہ خود امریکی حکومت تھی، جس نے اپنی معیشت کے استحکام اور اسرائیل کے تحفظ کے لئے یہ حملے کروائے۔ ایرانی صدر کے ان کلمات پر اجلاس میں شامل امریکہ اور یورپی یونین سمیت متعدد ممالک کے وفود نے احتجاج کرتے ہوئے ہال سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔

ایرانی صدر احمدی نژاد نے جمعے کے روز نیویارک میں ایک نیوز کانفرنس میں ایک مرتبہ پھر اس موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی شہریوں کے چار گروپوں سے ملاقات کی، جو گیارہ ستمبر کے حوالے سے امریکی حکومت کے موقف سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیان پر امریکی انتظامیہ کا سخت ردعمل ان کے لئے زیادہ غیر متوقع نہیں تھا۔

’’اگر امریکی حکومت پریشان ہے، تو ظاہر ہے اسے پریشان ہونا چاہئے۔‘‘ انہوں نے نام لئے بغیر کہا کہ ایک سروے کے مطابق 80 فیصد امریکی شہری گیارہ ستمبر کے حملوں سے متعلق اپنے ’شبہات‘ ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس