1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احمدی نژاد کا امریکہ جانے کا فیصلہ

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT پر نظر ثانی سے متعلق اجلاس میں شرکت کی غرض سے امریکی ویزے کے لئے درخواست دے دی ہے۔

default

خیال کیا جارہا ہے کہ احمدی نژاد اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران ایرانی جوہری پروگرام کے پرامن ہونے کے بجائے اسرائیل کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے نکتے پر زیادہ زور دیں گے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان پی جے کراؤلی کے بقول چونکہ امریکہ اور ایران کے مابین سفارتی تعلقات منقطع ہیں، اس لئے احمدی نژاد نے سوئٹزرلینڈ کے امریکی سفارتخانے میں یہ درخواست جمع کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام تین مئی سے شروع ہونے والے اس انتہائی اہم نوعیت کے اجلاس کا میزبان ہونے کی وجہ سے امریکہ پر بہت ذیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ احمدی نژاد کو امریکہ ویزا جاری کردیا جائے گا۔

Teheran Atomkonferenz 2010

رواں ماہ تہران میں جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ایرانی صدر نے مطالبہ کیا کہ NPT پر نظر ثانی میں ان ممالک کی رائے کو اہمیت دی جائے جن کے پاس جوہری ہتھیار نہیں

28 مئی تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں ایرانی وفد کی قیادت کی ذمہ داری پہلے وزیر خارجہ منوچہر متقی کو سونپی گئی تھی۔ تاہم بعد میں صدر احمدی نژاد نے خود ایرانی وفد کی قیادت کا فیصلہ کیا۔ کانفرنس کے متوقع شرکاء میں 30 مملاک کے وزرائے خارجہ شامل ہوں گے، اس اعتبار سے ایرانی صدر سب سے اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار ہوں گے۔

امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک ایران پر NPT کی مبینہ خلاف ورزی کرنے اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے نئی تہران مخالف پابندیوں پر غور کررہے ہیں۔ NPT پر نظرثانی سے متعلق اس اجلاس میں مغربی مملاک کی کوشش ہوگی کہ ایران اور شمالی کوریا جیسے مملاک کو ’حساس جوہری توانائی‘ کے حصول سے روکنے کے لئے اس معاہدے میں مزید سخت نکات کا اضافہ کیا جائے۔

اجلاس کے موقع پر عرب ممالک اس بات پر زور دیں گے کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کے نکتے کو NPT کا حصہ بنایا جائے، جس کا مطلب ہوگا کہ اسرائیل بھی اپنے مبینہ جوہری ہتھیار تلف کرے۔ اسرائیل میں پہلا Dimona نامی جوہری بجلی گھر 1965ء میں قائم کیا گیا تھا تاہم یروشلم حکومت نے تاحال جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

Flash-Galerie Atommächte weltweit

چین کے جوہری بموں کے ماڈل، بیجنگ حکومت ایک وسط مدتی منصوبے کے تحت ملک میں ایک ہزار میگا واٹ کے حامل کم از کم 32 جوہری بجلی گھر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے

امکان ہے کہ پاکستان اور بھارت پر بھی اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے دباؤ بڑھایا جائے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدہ 1968ء میں تشکیل دیا گیا تھا، جس کا مقصد امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے علاوہ دیگر ممالک کے جوہری ہتھیاروں تک رسائی کو روکنا تھا۔ اس کے بدلے میں ان پانچ ممالک نے دیگر مملاک کو جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کی جانب بڑھنے اور پر امن مقاصد کے لئے جوہری توانائی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM