1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احمدی نژاد جوہری مذاکرات کے لئے پرعزم

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں عالمی طاقتوں کے ساتھ تہران کے جوہری مذاکرات کا نتیجہ فریقین کے لئے ’’جیت جیت‘‘ کی صورت میں برآمد ہوگا۔

default

احمدی نژاد کی طرف سے یہ بیان ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنیوا مذاکرات عالمی طاقتوں اور ایران کے لئے ایک خوش آئند بات چیت ثابت ہوں گے۔ اس انٹرویو میں احمدی نژاد کے لہجے میں غیر عمومی نرمی اور مذاکرات کے لئے رغبت دیکھی جا سکتی تھی۔ تاہم اس انٹرویو میں احمدی نژاد نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا تہران حکومت جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی یا لچک کا مظاہرہ کرنے والی ہے یا نہیں۔

Dossier Iran Atomprogramm Teil 2

ایران نے گزشتہ چند ماہ میں یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا ہے

احمدی نژاد نے کہا کہ ان مذاکرات میں فریقین کو ’بڑے پن اور احترام‘ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے رواں ماہ دسمبر کے آغاز میں جنیوا میں ایران اور جرمنی سمیت سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کے درمیان ہونے والے دو روزہ مذاکرات کے حوالے سے کہا : ’’جنیوا میں ہونے والی بات چیت انتہائی مثبت رہی۔‘‘

عالمی طاقتوں اور تہران حکومت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ تقریباﹰ ایک برس کے تعطل کے بعد دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ احمدی نژاد نے اپنے انٹرویو میں عالمی طاقتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد کی گئی سخت ترین پابندیوں کو جلد از جلد ختم کریں، ’’تصادم کی بجائے گفتگو اور تعاون کا راستہ سب سے زیادہ بہترین ہے۔ اگر ہم (ایران اور عالمی طاقتیں) بات چیت کی طرف بڑھیں، تو فریقین میں سے کوئی گھاٹے میں نہیں رہے گا اور جیت دونوں کی ہو گی۔ ہم آغاز سے یہی چاہتے ہیں کہ فتح سب کی ہو۔‘‘

IAEO Tagung in Wien Iran Atom

اس سے قبل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات ناکامی کا شکار ہوئے تھے

واضح رہے کہ ایران نے گزشتہ کچھ عرصے سے یورینیم کی افزودگی میں مسلسل اضافہ کیا ہے اور عالمی برداری کو شدید خدشات لاحق ہیں کہ ایران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے جبکہ ایران ہمیشہ ہی ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا آیا ہے۔

گزشتہ برس ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جب ایران نے کم افزودہ یورینیم کی فرانس منتقلی اور بدلے میں درمیانے درجے کی افزودہ یورینیم کی واپسی کا منصوبہ مسترد کردیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان