1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’احمدیوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے‘

کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے  پاکستان کے اقلیتی گروہ ’احمدیوں‘ پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فوج میں احمدی افراد کی بھرتیوں اور ترقیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پاکستان کی سیاسی جماعت مسلم لیگ نون کے رہنما اور ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر نے گزشتہ روز پاکستان کی قومی اسمبلی میں ملک کی ’احمدی‘ کمیونٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس عقیدےکے ماننے والے افراد پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ یہ لوگ پاکستان، اس کے آئین اور اس کے نظریے کے لیے خطرہ ہیں۔‘‘ 

مسلم لیگ نون کی اہم خاتون سیاسی رہنما مریم نواز شریف کے شوہر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد ختم نبوت کے عقیدے کو تحفظ فراہم کرنا تھا تاکہ یہاں آزادی سے مذہب اسلام پر عمل درآمد کیا جاسکے۔ کیپٹن صفدر نے اسلام آباد میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہء طبعیات کو پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب کرنے پر بھی تنقید کی کیونکہ یہ نظریاتی فزکس کے یہ عالمی شہرت یافتہ سائنسدان احمدی عقیدے کے حامل تھے۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی ملک کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دورِ حکومت میں اس یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام پروفیسر عبدالسلام کے نام پر رکھنے کی منظوری دی گئی تھی۔ کیپٹن صفدر نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے افواج پاکستان میں احمدیوں کی بھرتی پر پابندی کے لیے قرارداد لانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

 پاکستان کے مختلف حلقوں کی جانب سے کیپٹن صفدر کے بیان کی مذمت کی جارہی ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ا‍حمدی کمیونٹی اوران کے حق میں آواز اٹھانے والے افراد کو  نفرت اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے وقت میں اس عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد پر قومی اسمبلی جیسے پلیٹ فارم پر تنقید کرنا  غیر اخلاقی عمل ہے۔

تجزیہ کار ماروی سرمد نے سابق فوجی افسر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ کیا مسلم لیگ نون کی قیادت کیپٹن صفدر کے بیان سے لاتعلقی ظاہر کرے گی ؟ کیا دیگر سیاسی جماعتیں ان کے بیان کی مذمت کریں گی ؟‘‘

کالم نگار مہر تارڑ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،'' کیپٹن صفدر کا بیانیہ پاکستان کے استحکام اور اتحاد کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ ان کی جانب سے مسلسل لوگوں کے عقیدے کو نشانہ بنائے جانے کے عمل کی مذمت کرنی چاہیے۔‘‘

مرتضی وہاب نے لکھا،’’ گزشتہ روز کیپٹن صفدر نے نفرت انگیز تقریر کی جس کو روکنا نیشنل ایکشن پلان کی بیس شقوں میں سے ایک ہے۔‘‘

تجزیہ کار زاہد حسین نے لکھا،'' شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کی جانب سے کیپٹن صفدر کی تقریر پر مکمل خاموشی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی یہی نظریات رکھتے ہیں۔‘‘

سماجی کارکن  جبران ناصر نے ایک ویڈیو میں کیپٹن صفدر کے بیان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’ کیپٹن صفدر چاہتے ہیں کہ احمدیوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے۔ اگر کوئی فوج یا کسی سرکاری دفتر میں کام کر رہا ہے تو اس سے یہ حق بھی واپس لے لیا جائے۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین بلاول بھٹو نے لکھا،’’ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں نفرت اور شدت پسندی کی کھلی نمائش ظاہر کرتی ہے کہ مسلم لیگ نون ایم ایم ایل (سخت عقیدے کی ملی مسلم لیگ ) سے قبل ہی دہشت گردی کو مرکزی دھارے میں لا رہی تھی۔ ہمارے معاشرے میں اس ذہنیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

قائد اعظم يونيورسٹی کا شعبہ فزکس ڈاکٹر عبدالسلام کے نام منسوب

احمدی کمیونٹی کے حوالے سے رپورٹنگ، صحافی پر حملہ

پاکستان میں ایک احمدی مسجد پر حملہ، متعدد زخمی

پاکستان کے موجودہ آئین میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کے دورِ اقتدار میں سن 1974 میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران بھی کی گئی قانون سازی کے تحت احمدیوں کا خود کو مسلمان قرار دینا بھی قابل سزا قرار دیا گیا تھا۔

 

DW.COM