1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احتساب بیورو کا بلوچستان میں کرپٹ عناصر کے خلاف کریک ڈاون

نیب نے کوئٹے میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سابق چئیرمین اور دو ڈپٹی ڈائریکٹروں سمیت پانچ سرکاری اہل کاروں کو اربوں روپے کے کرپشن اسکینڈلز میں گرفتار کیا ہے۔

گرفتار اہل کاروں پر سرکاری محکموں میں بڑے پیمانے پر نا اہل افراد کو گزیٹڈ پوسٹوں پر تعینات کرنے اور محکمہ خزانہ کے فنڈز میں اربوں روپے کرپشن کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔

نیب بلوچستان کے ترجمان محمد شکورخان کے بہ قول محکمہ خزانہ کے میگا کرپشن اسکینڈل میں نامزد دو اہم ملزمان محکمہ سی اینڈ ڈبلیو قلات سے وابستہ طارق علی اور ٹھیکے دار عبدالمجید کوآج پیر کے روز کوئٹے اور کراچی میں چھاپے مار کرگرفتارکیا گیا ہے۔ ان افراد کی گرفتاری پہلے سے گرفتار سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی نشان دہی پرعمل میں آئی ہے ۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا،"نیب کی تفتیشی ٹیموں نے آج چھاپوں کے دوران صوبائی پبلک سروس کمیشن کے سابق چئیرمین محمد اشرف مگسی اور دو ڈپٹی ڈائریکٹروں نیاز کاکڑ اور عبدالوحید کوگرفتار کیا ہے۔ ملزم اشرف مگسی نے دوران ملازمت دیگر اہل کاروں کے ساتھ مل کر اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹےسمیت بڑے پیمانے پر نا اہل افراد کو مختلف محکموں میں بھرتی کروایا ہے۔ اس اسکینڈل میں ملوث ملزمان نے غیر قانونی بھرتیوں کی آڑ میں قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے ۔"

نیب ترجمان نے بتایا کہ اشرف مگسی اور دیگر ملزمان نےدوران ملازمت قواعد و ضوابط کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں بھی کی ہیں جن کی وجہ سے صوبے میں اہم اسامیوں پر تعیناتیوں کے دوران میرٹ بری طرح پامال ہوا۔

انہوں نے کہا، "غیرقانونی بھرتیوں کے اسکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف نیب گزشتہ ڈیڑھ سال سے تحقیقات کر رہا تھی۔ نامزد ملزمان اشرف مگسی اور دیگر کے خلاف سابقہ دور میں نیب کو بہت شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ملزمان کی بد عنوانی کے خلاف کوئٹے میں متعدد بار شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا تھا ۔ "

ترجمان نیب نے بتایا کہ بلوچستان میں بد عنوانی میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کیا گیا ہے۔ کرپشن میں جو بھی لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

کرپشن کے الزام میں آج گرفتار ہونے والے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سابق افسران کو جوڈیشل ریمانڈ پر احستاب عدالت کوئٹہ نےجیل جب کہ سی اینڈ ڈبلیو کے گرفتار افسران کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔

یاد رہے کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے سابق چئیرمین اشرف مگسی کو ان کے عہدے سے نومبر 2014 میں گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے برطرف کیا تھا۔

تین یوم قبل نیب نے کوئٹہ سول سیکرٹریٹ پر چھاپے کے دوران سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو بھی گرفتار کیا تھا۔ ملزم کے گھر واقع جی او آر کالونی پر چھاپے کے دوران نیب نے63 کروڑ روپے کی پاکستانی کرنسی 15 ہزار پاونڈ ہزاروں ڈالرز اور چار کلو سونا برآمد کیا تھا۔

صوبائی مشیر خزانہ خالد لانگو بھی دو یوم قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

بلوچستان کی اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے کرپشن کے ان میگا اسکینڈلز کے سامنے آنے کے بعد بلوچستان اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں زبردست ہنگامہ آرائی بھی کی تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی مخلوط کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مولانا عبدالواسع نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل کچھ وزراء اربوں روپے کی کرپشن میں براہ راست ملوث ہیں ۔

ڈی ڈبلیوسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "محکمہ خزانہ، لوکل گورنمنٹ اور دیگر سرکاری محکموں میں جس بڑے پیمانے پر کرپشن ہوئی ہے یہ کوئی عام بات نہیں ہے ۔ بدعنوانی میں ملوث تمام اہل کاروں کو حکومت میں شامل بعض وزراء کی مبینہ طور پربھر پور معاونت حاصل رہی ہے ۔ لوکل گورنمنٹ کے پی ایس ڈی کے فنڈز میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن سے صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کا ڈراپ سین ہو گیا ہے ۔ ہم نے اسمبلی کے گزشتہ اجلاس سے واک آوٹ کیا تھا۔ اب ہم اس وقت تک اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جب تک صوبائی کابینہ مستعفی نہیں ہوتی ۔"

ادھر دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے اپوزیشن جماعتوں کے الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت صوبے میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں نیب کو بھر پور معاونت فراہم کر رہی ہے۔

Pakistan, Mushtaq Raisani

مشتاق رئیسانی

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اپوزیشن کے الزامات حقائق سے بر عکس ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ صوبے میں کرپشن نہیں ہوئی ہے ۔ ظاہر ہے جب بدعنوانی ہوئی ہے تو یہ اسکینڈل سامنے آ رہے ہیں ۔ لیکن یہ دعویٰ قطعی طور پر غلط ہے کہ بعض اہل کاروں کے ہاتھوں ہونے والی کرپشن کا الزام صوبائی وزراء پر لگایا جائے۔ ہم نے ہمیشہ کرپشن کی مذمت کی ہے ۔ وزیر اعلٰی بلوچستان نے نیب کو باقاعدہ سرکاری طور پر آگاہ کیا ہے کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے۔ "

صوبائی ترجمان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کی جائے گی چاہیے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے مذید کہا، "ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ گوڈ کورننس کا قیام حکومت کی ترجیہات میں شامل ہے اور کرپشن پر حکومت کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔ ہم نے نیب کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ صوبائی محکموں کا خود مختار اندازمیں احتساب کیا جائے۔ قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے چاہے وہ وزیر ہو یا کوئی مشیر۔ جو بھی کرپشن میں ملوث ہو گا اس کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے گی۔‘‘

سیاسی امور کے تجزیہ کار ندیم خان کے بقول بلوچستان میں نیب کی کارروائی میں تیزی سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اب ریاستی ادارے ملک کو کرپشن کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں ۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میرے خیال میں کرپشن کے خلاف یہ مہم اس ملک گیر مہم کا حصہ ہے جس کا آغاز آرمی چیف نے اپنے ادارے سے کیا تھا۔ گوڈ گورننس نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے ۔ حکومت یہ تو کہتی ہے کہ فوج اور سول قیادت ایک نکتے پر ہیں لیکن عملی طور یہ دکھائی نہیں دیتا۔ جس بڑے پیمانے پرکرپشن کے ذرئع قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہے اس کانیب کےحالیہ کریک ڈاون کے علاوہ کوئی اور بہتر حل نہیں ہو سکتا ۔"

ندیم خان نے بتایا کہ نیب نے کرپشن کے خلاف جس مہم کا آغاز بلوچستان سے کیا ہے اس کا دائرہ کار ملک کے دیگر حصوں تک بھی وسیع کیا جائے گا تاکہ لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس حاصل کیا جا سکے ۔

احتساب عدالت کوئٹہ نے آج سابق صوبائی وزیر خوراک اسفندیار کاکڑ کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں۔ ملزم پر کروڑوں روپے کرپشن کا الزام عائد کیا گیا ہے۔