1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

احتجاجی مظاہروں میں چار افراد ہلاک، ایرانی اپوزیشن

ایرانی دارالحکومت تہران میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔ تازہ واقعات میں بعض مظاہرین ہلاک بھی ہوئے، جن میں اپوزیشن لیڈر میر حسین موسوی کا ایک بھتیجا بھی شامل ہے۔

default

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کے مظاہروں میں ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ قبل ازیں پولیس نے اپوزیشن کے ان دعووں کی تردید کی تھی۔

تہران پولیس کے سربراہ عزیز اللہ رجب زادے نے کہا تھا کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس نے فائرنگ نہیں کی اور نہ ہی سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس اسلحہ تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

خیال رہے کہ ایران میں غیرملکی ذرائع ابلاغ کو مظاہروں کی کوریج کی اجازت نہیں، جس کے باعث ان واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

حکام نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ عاشورہ کے جلوسوں کو احتجاج کے لئے استعمال کرنے کی کوششوں کوکچل دیا جائے گا۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے پہلے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کئے۔ تاہم ان کوششوں میں ناکامی پر انہوں نے ہوائی فائرنگ کی۔

اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ Rahesabz.net کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست بھی فائرنگ کی، جس سے تبریز میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ قبل ازیں انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ہلاکتیں تہران میں ہوئیں۔

اُدھر اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تصاویر دستیاب ہیں، جو بین الاقوامی خبررساں اداروں کو جاری کی جائیں گی۔

خبررساں ادارے 'اے ایف پی' نے ایرانی اپوزیشن کی ویب سائٹ اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دراصل عاشورہ کے ماتمی جلوس ہی حکومت کے خلاف احتجاج میں تبدیل ہوئے۔

Angriff der Sicherheitskräfte auf die Protestierenden im Iran

پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہفتے کو بھی جھڑپیں ہوئیں

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ انہوں نے احمدی نژاد کو آمر قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین میں نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ادھیڑ عمر افراد اور خواتین بھی شامل تھیں۔ انہوں نے یوم عاشور کے موقع پر ماتم کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

اپوزیشن کے مطابق تہران کے علاوہ اصفہان، نجف آباد، بابل اور شیراز میں بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ تہران میں حکومت نواز گروپوں نے بھی مظاہرے کئے ہیں۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان تہران میں ایسی ہی جھڑپیں ہفتہ کو بھی ہوئیں۔ تاہم اتوار کو ان میں زیادہ شدت آئی۔ بعض ذرائع ان واقعات کو رواں برس جون میں ہونے والے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ہونے والے سب سے زیادہ پرتشدد مظاہرے قرار دے رہے ہیں۔

جون کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد سے اپوزیشن کے حامی وقفے وقفے سے حکومت کے خلاف احتجاج کرتے رہتے ہیں۔ جون میں اسی نوعیت کے مظاہروں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے، اپوزیشن کے مطابق ان کی تعداد 72 تھی جبکہ تہران حکام کے مطابق صرف 36 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM