1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

احتجاجی بھوک ہڑتال: نیا بھارتی سماجی رویہ

بھارت میں ان دنوں احتجاج کے لیے اس طرح کی بھوک ہڑتالوں کا سلسلہ دوبارہ سماجی رویہ بنتا جا رہا ہے، جیسی مہاتما گاندھی نے عشروں پہلے برصغیر پر برطانوی راج کے خلاف کی تھیں۔

default

مشہور یوگا گرو بابا رام دیو

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت میں سیاسی اور سماجی شخصیات کی طرف سے ایسی بھوک ہڑتالیں حکومت کو اہم ترین موضوعات پر اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں ملک میں بہت زیادہ بدعنوانی کے خلاف کی جانے والی بھوک ہڑتالیں اس بارے میں پورے بھارت میں عوام کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ یہ ہڑتالیں وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئیں۔

Indien Hungerstreik Baba Ramdev

بابا رام دیو بھوک ہڑتال کے دوران اپنے پیروکاروں کے ہمراہ

لیکن ماضی میں مہاتما گاندھی کی طرف سے اور موجودہ بھارت میں مختلف نامور شخصیات کی طرف سے کی جانے والی ایسی ہڑتالوں میں فرق بھی ہے۔ بھارت کی برطانیہ سے آزادی کی جدوجہد کے ہیرو مہاتما گاندھی کی احتجاجی بھوک ہڑتال کو آج بھی ذاتی قربانی، تشدد سے پاک احتجاج اور اصولی رویے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت میں بھوکا رہ کر احتجاج کرنے کا جو رویہ رواج پکڑتا جا رہا ہے، اسے کئی حلقے غیر جمہوری اور ذاتی شہرت کی سستی کوششوں کا نام بھی دیتے ہیں۔

بھارت میں ایسی بھوک ہڑتالوں کی حالیہ مثالوں میں انا ہزارے نامی بزرگ سیاسی اور سماجی کارکن کی وہ ہڑتال بھی شامل ہے، جو اس 73 سالہ شخصیت نے اپریل میں کی تھی۔ انا ہزارے مہاتما گاندھی کے بہت بڑے مداح ہیں اور انہوں نے یہ احتجاج اس لیے کیا تھا کہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف قانون سازی میں عام شہریوں کی بہت زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جائے۔ یہ احتجاج یکدم پورے بھارت میں عوامی موضوع بن گیا تھا۔ اس ہڑتال کے حق میں انٹرنیٹ کی فیس بک اور ٹوئٹر جیسی ویب سائٹس پر بھی کامیاب مہمیں چلائی گئی تھیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ من موہن سنگھ حکومت نے انا ہزارے کے چند مطالبات مان لیے اور انہیں اپنی ہڑتال 98 گھنٹے بعد ختم کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔

Indien Hungerstreik von Aktivist Anna Hazare gegen Korruption in New Delhi

انا ہزارے مہاتما گاندھی کے بہت بڑے مداح ہیں

پھر جون کے شروع میں بھارت کے ایک انتہائی مشہور یوگا گرو بابا رام دیو نے بھی حکومت کو ملک سے بدعنوانی کے خاتمے پر مجبور کرنے کے لیے نئی دہلی میں اپنی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ پولیس نے کارروائی کی اور رام دیو کے بہت سے پیروکاروں کو گرفتار کرنے کے علاوہ اس یوگا گرو کو نئی دہلی سے واپس ان کے آبائی شہر ہردوار پہنچا دیا گیا۔ رام دیو نے وہاں بھی اپنا احتجاج جاری رکھا اور چند روز بعد حکام نے رام دیو کو زبردستی ہسپتال منتقل کر دیا۔ کچھ دنوں بعد ہسپتال میں ہی اس یوگا گرو نے آٹھ روز بعد اپنی ہڑتال ایک اور بہت قابل احترام گرو کی اپیل پر ختم کر دی۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ ملک میں بدعنوانی کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

بابا رام دیو کی بھوک ہڑتال کے خاتمے کے ایک روز بعد شمالی بھارت کے شہر ڈیرہ دون میں سوامی نگما نندا نامی ایک اور گرو چار مہینے تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال کے نتیجے میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ معاشرے میں بدعنوانی اور دریائے گنگا میں بڑھتی ہوئی آلودگی کے خلاف کیا تھا۔

بھارت میں اب دوبارہ نظر آنے والی بھوک ہڑتال کی اس روایت کے بارے میں اہم بات یہ ہے کہ معاشرے میں اس کی تعریف بھی کی جا رہی ہے اور اس پر تنقید بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس طرح کے احتجاج کے ذریعے ہڑتالی شخصیات جزوی طور پر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہونے لگی ہیں۔ اہم ترین مسائل کو سامنے لا کر اور عوامی شعور میں بیداری کی صورت میں بھی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس