1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اجمل قصاب کی سزائے موت برقرار

ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے ملزم محمد اجمل عامر قصاب کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے آج دو ججوں نے یہ سزا برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

default

ممبئی کی ہائی کورٹ کے ان ججوں نے آج بھارتی وقت کے مطابق دن گیارہ بجے اور عالمی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے سے اجمل قصاب کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔

اس 23 سالہ پاکستانی شہری کو گزشتہ سال مئی میں مجرم قرار دے کر سزائے موت سنا دی گئی تھی۔ اجمل اور اس کے نو دیگر ساتھیوں پر بھارت کے اقتصادی مرکز ممبئی میں ‌خونریز دہشت گردانہ کارروائی کر کے 166 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام ثابت کیا گیا۔ 26 نومبر 2008ء کے اس واقعے میں لگ بھگ تین سو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

NO FLASH Anschläge Mumbai Indien 2008 Ajmal Kasab

اجمل قصاب

اجمل کی چارج شیٹ کے مطابق اس پر بھارت پر حملہ کرنے، قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات عائد ہیں۔ قصاب کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر میں سزا کے خلاف اپیل کی گئی تھی۔ ان کے وکلاء کا موقف ہے کہ 11 سو صفحات پر مبنی چارج شیٹ کو تفصیل سے پڑھنے کے لیے انہیں وقت نہیں دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد بھارت میں پاکستان مخالف جذبات میں شدت بڑھی اور دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا تھا۔

بھارت میں اب ہرسال اس دن سوگ مناکر مرنے والوں کو یاد کیا جاتا ہے۔ استغاثہ کے وکیل اجول نکم نے یقین ظاہر کیا تھا کہ اجمل کی معافی کی اپیل رد کر کے اس کی سزا برقرار رکھی جائے گی۔ دوسری جانب وکیل صفائی فرحانہ شاہ نے امید ظاہر کی تھی کہ ان کے مؤکل کو معاف کر دیا جائے گا۔

Flash-Galerie Anschläge Mumbai Indien 2008

ممبئی حملوں کے بعد کا منظر

ممبئی حملوں میں معاونت کے الزام میں گرفتار بھارتی شہریوں فہیم ارشد انصاری اورصباح الدین احمد کے بارے میں بھی آج پیر ہی کو فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔

بھارتی قانون کے تحت ریاستی ہائی کورٹ میں اپیل رد کیے جانے کے بعد ملکی دارالحکومت نئی دہلی کی سپریم کورٹ اور آخر میں ملکی صدر سے سزا کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امجد علی

DW.COM