1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اجمل قصاب کو پاکستان سفارت کار تک رسائی دی جائے

پاکستانی کمیشن برائے انسانی حقوق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں کے واحد زندہ ملزم اجمل قصاب کو سفارتی اور قانونی تحفظ فراہم کرے۔

default

گزشتہ برس، 26نومبر کو بھارت کے بندرگاہی شہر ممبئی میں ہونے والے دھشت گردی کے واقعات میں جہاں کئی لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہیں پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بھی خراب ہوگئے اور پانچ برسوں سے جاری جامع مزاکراتی امن عمل بھی متاثر ہوگیا۔

ممبئی حملوں میں ملوث اجمل قصاب کی پاکستانی شہریت بھی کافی عرصے تک متنازعہ رہی اور آخرکار پاکستان نے تسلیم کر لیا کہ قصاب پاکستانی شہری ہیں تاہم اسے کسی قسم کا قانونی تحفظ فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ پاکستانی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومت کے اس اقدام کو غیر مناسب قرار دے رہی ہیں۔

Indiens Aussenminister Pranab Mukherjee auf einer Pressekonferenz in Singapur

بھارتی حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں دس عسکریت پسندو ں نے حصّہ لیا تھاجن میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو تمام ثبوت فراہم کر چکا ہے اوراب پاکستان کے رد عمل کا انتظار کر رہا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے جو بھی معلومات فراہم کی گئی ہیں اُن کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے گا اور یہ کہ ممبئی حملوں کی مکمل تحقیقات کے حوالے سے بھارت کو بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

بھارتی حکام کے مطابق ممبئی حملوں میں دس عسکریت پسندو ں نے حصّہ لیا تھاجن میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

Audios and videos on the topic