1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اجمل قصاب قصوروار، عدالتی فیصلہ

ممبئی حملوں کیس کے سماعت کرنے والی ایک بھارتی عدالت نے ملزم اجمل قصاب کو مرکزی مجرم قرار دے دیا ہے۔ انہیں سزا منگل کو سنائی جائے گی۔

default

بائیس سالہ پاکستانی شہری اجمل قصاب

عدالت کے مختصر فیصلے کے مطابق ممبئی حملوں میں زندہ بچنے والے واحد حملہ آور محمد اجمل قصاب پر قتل اور بھارت پر جنگ مسلط کرنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

26نومبر سن دو ہزارآٹھ کو بھارتی شہرممبئی ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے سلسلے میں دو بھارتی شہریوں صباح الدین اورفہیم انصاری کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم عدالت نے انہیں باعزت بری کردیا۔

اس خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تاہالیانی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بائیس سالہ پاکستانی شہری اجمل قصاب پرCST ٹرین اسٹیشن پرقتل عام اوربھارت پرجنگ مسلط کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔ اجمل قصاب کو سزا منگل کو سنائی جائے گی۔ ان الزامات میں مجرم قراردئے جانے کے بعد انہیں سزائے موت بھی سنائی جا سکتی ہے۔ ممبئی پر ہوئے حملوں کے سترہ ماہ بعد عدالت نے فیصلہ سنایا ہے۔ 26 نومبر سن دو ہزارآٹھ کو دس حملہ آوروں نے بھارتی اقتصادی شہ رگ ممبئی پر اچانک حملہ کیا تھا اور تقریباً باسٹھ گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد نو حملہ آور ہلاک کر دئے گئے تھے جبکہ اجمل قصاب کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

Mumbai Anschläge Gerichtsverhandlung Ajmal Kasab

عدالت کے باہر سخت سیکیورٹی تعینات تھی

پیرکو عدالت نے جب فیصلہ سنایا تو اجمل قصاب، فہیم انصاری اور صباح الدین احمدعدالت میں موجود تھے۔ فہیم انصاری اورصباح الدین احمد پر الزام تھا کہ انہوں نے بھی ان حملوں کی سازش کی اور اہداف کے نقشے تیارکئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی اور اس سلسلے میں عدالت نے لشکرطیبہ کے رہنما حافظ سعید اورذکی الرحمان لکھوی کو بھی قصوروار قرار دیا۔

خصوصی عدالت کے جج ایم ایل تاہالیانی نے کہا: ’’ یہ قتل عام کا سادہ سا عمل نہیں تھا بلکہ یہ جنگ تھی۔ ‘‘ پندرہ سو بائیس صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے کی سمری میں جج نے کہا ہے کہ ممبئی حملوں جیسی واردات کی تیاری کوئی عام مجرم نہیں کرسکتا، یہ تیاری صرف وہی کر سکتا ہے جو جنگ مسلط کرنا چاہتا ہو۔

نومبر2008ء کو ممبئی کے مختلف مقامات پر دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 166 افراد ہلاک اورتین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق ان حملوں میں پاکستانی انتہا پسند تنظیم لشکر طیبہ ملوث تھی اسی لئے ان حملوں کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے اورپانچ سال سے جاری دوطرفہ مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا ۔

اجمل قصاب پرکُل چھیاسی الزامات عائد کئے گئے تھے اورعدالتی کارروائی کے دوران ایف بی آئی کے اہلکاروں سمیت کل 658 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔

Ajmal Amir Kasab Mumbai

اجمل قصاب کو سزا منگل کو سنائی جا ئے گی

بھارتی وزیر داخلہ پی چدم مبرم نے عدالتی فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ یہ پاکستان کے لئے ایک پیغام ہے کہ وہ بھارت میں دہشت گردی نہ پھیلائیں، انہوں نے کہا: ’’ اگرپاکستان ایساکرتا ہے تو ہم دہشت گردوں کو گرفتار کریں گے، ہم اس قابل ہیں کہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں اورانہیں مثالی سزا دیں۔‘‘ پی چدم برم نے کہا کہ یہ مقدمہ بھارتی عدالتی نظام کی جیت ہے اوراس سےثابت ہوتا ہے کہ بھارت میں قانون کا راج ہے۔

پاکستان اوربھارتی وزرائے اعظم کی ملاقات کے کچھ دنوں بعد ہی اجمل قصاب کے خلاف جاری مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ سارک کانفرنس کے دوران بھوٹان میں ہوئی دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کے دوران من موہن سنگھ اور یوسف رضا گیلانی نے ہمسایہ ممالک کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے لئے مثبت اقدامات کے عزم کا اظہار کیا تھا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM