1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اجلاس منسوخ کرنے پر جرمنی پر دوہرے معیار کا الزام، ترکی

ترکی نے جرمن حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ قبل ازیں جرمنی میں ترک وزیر انصاف کے خطاب پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ترکی کے مطابق برلن کو بہتر تعلقات کے لیے ’برتاؤ کرنے کا طریقہ‘ بھی سیکھنا چاہیے۔

ترکی نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اگر جرمن حکومت بہتر تعلقات قائم رکھنا چاہتی ہے تو اسے یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ کسی دوسرے سے برتاؤ کیسے کیا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین اس نئے سفارتی تناؤ کی وجہ ترک وزیر انصاف کی طرف سے جرمنی میں ترک باشندوں سے خطاب پر پابندی بنی ہے۔

ترکی میں مستقبل قریب میں صدارتی نظام رائج کرنے کے موضوع پر ایک عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا، جس کی منظوری کے لیے عوامی تائید حاصل کرنے کی خاطر ترک وزیر انصاف بوزداگ جرمنی میں ترک نژاد باشندوں کے دو سیاسی اجتماعات سے خطاب کرنا چاہتے تھے جبکہ جرمنی میں گزشتہ روز ان ریلیوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

 ان میں سے ایک سیاسی ریلی کل جمعرات کی شام منعقد کی جانا تھی۔ جرمن علاقے گاگیناؤ کی مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ سکیورٹی خدشات اور جگہ کی کمی کی وجہ سے مجوزہ ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جرمنی میں تقریباﹰ تین ملین ترک رہائش پزیر ہیں، جن میں سے پندرہ لاکھ ترک شہریت کے حامل ہیں اور ووٹ کا حق رکھتے ہیں۔

Berlin Unterstützer Tayyip Erdogan Parlamentswahlen (Getty Images)

جرمنی میں تقریباﹰ تین ملین ترک رہائش پزیر ہیں، جن میں سے پندرہ لاکھ ترک شہریت کے حامل ہیں اور ووٹ کا حق رکھتے ہیں

جرمن حکام کے اس فیصلے کے بعد آج انقرہ میں ترک وزیر خارجہ مولود چاؤس اولو کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ آپ کو اس کے نتائج کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ ’’فرسٹ کلاس اور ترکی سیکنڈ کلاس‘‘ نہیں ہے۔

سیاسی اجتماعات سے خطاب پر پابندی کے سرکاری فیصلے کے بعد انقرہ نے ترکی میں تعینات جرمن سفیر کو وضاحت کے لیے  بھی طلب کر لیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کی رات انقرہ میں جرمن سفیر کو طلب کر کے انہیں برلن حکومت کے فیصلے پر ترکی کے عدم اطمینان سے اچھی طرح آگاہ کر دیا گیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان ان دنوں اس وجہ سے بھی تناؤ ہے کہ انقرہ حکومت نے کچھ دن پہلے ترک نژاد ایک جرمنی صحافی کو دہشت گردوں کے لیے پروپیگنڈا کرنے کے الزام کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد جرمن وزارت خارجہ نے بھی جرمنی میں تعینات ترک سفارت کار کو طلب کیا تھا۔

ترکی میں صدارتی نظام کے حوالے سے ریفرنڈم کا انعقاد سولہ اپریل کو کیا جائے گا۔