1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

’اتنی چھوٹی تصویر کہ انسانی آنکھ نہ دیکھ سکے‘

سوئٹزرلینڈ کے محققین نے ایک اِنک جیٹ پرنٹر کے ذریعے دنیا کی سب سے چھوٹی تصویر چھاپ لی ہے۔ اس تصویر کا سائز ہے، کسی انسانی بال کے ایک سِرے کے برابر۔

یہ تصویر براہ راست انسانی آنکھ سے نہیں دیکھی جا سکتی۔ اس تصویر میں تین رنگ برنگی مچھلیاں ایک رنگین سمندری پودے کی اوٹ سے نکل رہی ہیں مگر یہ تصویر 0.0092 مربع ملی میٹر یا 80 x 115 مائیکرومیٹر کی ہے۔ اس تصویر کی بابت اعلان سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی زیورخ (ETHZ) نے کیا۔

یہ شاہ کار تصویر سہ جہتی نینو ڈرپ پرنٹنگ ٹینکنالوجی کو بروئے کار لا کر پرنٹ کی گئی ہے۔ ای ٹی ایچ زیڈ سپِن آف کپمنی اس سے قبل یہ تھری ڈی پرنٹرز فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش بھی کر چکی ہے۔

3D Bio Drucker INSERM Institut in Pessac bei Bordeaux

تھری ڈی پرنٹنگ اب متعدد شعبوں میں استعمال کی جا رہی ہے

اس سے قبل کہ دنیا کی یہ سب سے چھوٹی تصویر گینیس بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بنے، اسے خصوصی خوردبین کے ذریعے جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا ہو گا۔

اس کمپنی کے مطابق زیرسمندر منظر کی اس تصویر کے انتہائی اعلیٰ معیار کی وجہ کوانٹم ڈاٹس ہیں۔ یہ نینو ذرات اپنی جسامت کے مطابق مختلف طرح کی روشنی خارج کرتے ہیں۔

رنگین مچھلیوں اور سمندری پودے کی اس تصویر کی پرنٹنگ کے لیے سرخ، سبز اور نیلے رنگوں کی کئی تہیں پرنٹ کی گئیں، جب کہ ان کے پکسلز کے درمیان فاصلہ پانچ سو نینو میٹر کے قریب کا تھا۔

یہ بات اہم ہے کہ کوانٹم ڈاٹس کو ان کے شدید رنگوں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے اور دور حاضر میں پرنٹنگ کے شعبے میں ان کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اس تکنیک کے ذریعے نہ صرف انتہائی چھوٹی جسامت کی تصویر پرنٹ کی جا سکیں گی، بلکہ یہی طریقہ الیکٹرونکس اور آپٹکس کے شعبوں میں مختلف طرح کے مواد، مرکبات اور عناصر کے استعمال کی بابت بھی استعمال کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ تصویر کئی گھنٹوں کی پرنٹنگ کا نتیجہ تھی، تاہم اس پرنٹ کی رفتار کو مستقبل میں تیز تر بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔