1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اتر پردیش کو چار ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد ریاستی ایوان میں منظور

بھارتی ریاست اتر پردیش کی اسمبلی نے اس گنجان آباد ریاست کو چار چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی قرار داد کو منظور کر لیا ہے۔ اب اس کو بحث کے لیے مرکزی حکومت بھیجا جائے گا۔

default

اتر پردیش کی وزیر اعلٰی مایا وتی

اتر پردیش کی خاتون وزیر اعلیٰ مایا وتی نے کہا ہے کہ بھارت کی اس سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کو تقسیم کرنے سے ترقی اور احتساب کے راستے کھل جائیں گے۔ وہ کئی برسوں سے اس قرارداد کی منظوری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئی تھیں۔

پیر کو ریاستی اسمبلی میں پیش کیے جانے سے چند روز قبل ہی ریاستی کابینہ نے اس قرارداد کو حتمی شکل دے دی تھی۔ اس قرارداد میں معرض وجود میں آنے والی نئی چار ریاستوں کے نام پروانچل، بندیل کھنڈ، اودھ پردیش اور مغربی اترپردیش تجویز کیے گئے ہیں۔

اترپردیش بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں شمار ہوتی ہے اور وہاں عمر کی شرح انتہائی کم اور بچوں کی اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس ریاست کی آبادی دو سو ملین ہے اور وہاں بسنے والے نفوس کی تعداد کئی ممالک کی مجموعی آبادی سےکہیں زیادہ ہے۔

Statuenbau in Uttar Pradesh

اترپردیش بھارت کی غریب ترین ریاستوں میں شمار ہوتی ہے

اتر پردیش کی وزیر اعلٰی مایا وتی نے کہا ہے کہ اس قرار داد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ اب حکمران سیاسی جماعت کانگریس نے ہی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس ریاست کی ترقی اسی وقت ممکن ہے، جب اسے مختلف چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے‘۔

سیاسی ناقدین نے اس قرار داد کے سیاسی رخ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کانگریس اس تجویز کی مخالفت کرتی ہے تو اس کا اتر پردیش میں ووٹ بینک متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف یہ امر بھی ہے کہ بہوجن سماج پارٹی کی رہنما مایا وتی اس ریاست میں بسنے والے دلَتوں کی ایک بڑی تعداد کی نمائندہ سیاستدان سمجھی جاتی ہیں۔ اگر اس ریاست کو تقسیم کیا جاتا ہے تو نہ صرف مایاوتی کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ہو گا بلکہ وہ معرض وجود میں آنے والی نئی ریاستوں میں بھی اکثریت حاصل کر سکتی ہیں۔

اس قرار داد پر عملدرآمد کے لیے اسے لوک سبھا یعنی ایوان زیریں سے منظوری ملنا ضروری ہے۔ کانگریس کو اس وقت مہاراشٹر اور آندھرا پردیش جیسی بڑی ریاستوں سے بھی اس تقاضے کا سامنا ہےکہ انتظامی معاملات میں بہتری اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے انہیں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس