1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

اتحاد کے لیے مہاجرین کی حد مقرر کرنے کا مطالبہ ختم

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی اتحادی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) نے جماعتوں کا اتحاد برقرار رکھنے کے لیے جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ تعداد کی حد مقرر کرنے کا اپنا دیرینہ مطالبہ واپس لے لیا ہے۔

سی ایس یو وفاقی جرمن ریاست باویریا میں برسر اقتدار ہے۔ باویریا کے وزیر اعلیٰ اور حکومتی اتحادی جماعت سی ایس یو کے سربراہ ہورسٹ زیہوفر بارہا مطالبہ کر چکے ہیں کہ انگیلا میرکل اور ان کی سیاسی جماعت سی ڈی یو جرمنی میں مہاجرین کی سالانہ تعداد کی حد مقرر کرے۔ میرکل اس مطالبے کو مسترد کرتی رہی ہیں۔

ترک نژاد جرمن شہری میرکل کو ووٹ مت دیں، ترک صدر ایردوآن

اے ایف ڈی مہاجرین مخالف جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں

ویڈیو دیکھیے 01:27

جرمنی میں انتخابات کیسے ہوتے ہیں؟

زیہوفر اپنے اس دیرینہ مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹ رہے تھے اور انہوں نے آئندہ انتخابات کے بعد سی ڈی یو سے اپنی جماعت کا اتحاد برقرار رکھنے کو بھی اس مطالبے سے مشروط کر رکھا تھا۔ تاہم اب انہوں نے اتحاد کے لیے اس شرط سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اتوار بیس اگست کے روز جرمنی کے عوامی نشریاتی ادارے اے آر ڈی کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں اس شرط سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کرتے ہوئے زیہوفر کا کہنا تھا، ’’صورت حال بدل چکی ہے اور برلن نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ اب (ماضی کے مقابلے میں) تارکین وطن کی تعداد کافی کم ہو چکی ہے۔‘‘

قدامت پسند نظریات رکھنے والی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین نے جرمن انتخابات کے لیے جاری کیے گئے اپنے منشور میں بھی جرمنی میں مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ سالانہ تعداد کی حد دو لاکھ تارکین وطن تک مقرر کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل ایسے مطالبوں کو مسلسل مسترد کرتی رہی ہیں۔ میرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی میں مہاجرین کی تعداد کی حد مقرر کرنا غیر آئینی اقدام ہو گا۔ جرمن آئین کے مطابق ایسے افراد کو پناہ دی جاتی ہے جن کی زندگیوں کو ان کے آبائی وطنوں میں خطرات لاحق ہوں۔

جرمنی کا آئندہ چانسلر میں ہوں گا، مارٹن شلس

میرکل کی پارٹی کا انتخابی منشور، مہاجرین سے متعلق سخت پالیسی

DW.COM

Audios and videos on the topic