1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اتحاد جرمنی کی سالگرہ ، چار مشتبہ افراد کی گرفتاری اور رہائی

جرمن اتحاد کی سالگرہ کے موقع پر گرفتار کیے جانے والے چار مشتبہ دہشت گردوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ایسے کوئی بھی ثبوت نہیں ملے، جن سے معلوم ہو سکے کہ یہ افراد کوئی دہشت گردانہ حملہ کرنا چاہتے تھے۔

default

جرمن پولیس اور دفتر استغاثہ کے مطابق تحقیقات کے دوران ایسے کوئی بھی ثبوت ہاتھ نہیں آئے، جن کی بناء پر ان افراد کو مزید حراست میں رکھا جا سکے۔ ساتھ ہی تحقیقات سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان افراد نے تین اکتوبرکی تقریبات کے موقع پر کسی حملے کی منصوبندی نہیں کی تھی۔

کولون پولیس کے ایک ترجمان کارسٹن موئلرز نے اتوار کے روز بتایا کہ ان میں سے تین مبینہ انتہا پسندوں کو ہفتے کے دن سابق وفاقی دارالحکومت بون کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ چوتھے ملزم کی گرفتاری فرینکفرٹ کے نواح میں اوفن باخ کے مقام پر عمل میں آئی، جسے بعد میں رہا کر دیا گیا۔

Feierlichkeiten 20 Jahre Deutsche Einheit Flash-Galerie

کارسٹن موئلرز کے بقول ان ملزمان کو اس لیے حراست میں لیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کے نزدیک بظاہر اس امر کو رد کرنا مشکل تھا کہ ملزمان کسی حملے کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے تھے۔ ان ملزمان کی عمریں بائیس اور ستائیس برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان ملزمان کے مبینہ منصوبوں نے پولیس اہلکاروں کے شبے کو اس لیے بھی مضبوط کر دیا کہ اس سال جرمن اتحاد کی اکیسویں سالگرہ کی مرکزی تقریبات پیر کے روز بون شہر میں ہی منعقد ہوں گی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو ان ملزمان کی رہائش گاہوں سے کسی بھی طرح کے کوئی ہتھیار یا کوئی غیر قانونی اشیاء بھی نہیں ملیں۔ وفاقی دفتر استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان ملزمان کا دہشت گردوں یا عسکریت پسندوں کے کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بارے میں بھی کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ ملزموں نے کسی حملے کا کوئی منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔ دہشت گردی کے واقعات کی چھان بین کرنے والے وفاقی جرمن ادارے کے ذرائع نےکہا ہے کہ اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ ان ملزمان کے خلاف اس وفاقی ادارے کی طرف سے تفتیش کی جائے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت:  ا فسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس