1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اتحادی فوجی اقدامات سے افغان عسکریت پسندوں کے حملوں میں کمی

افغانستان میں امریکہ کی سربراہی میں اتحادی فوجوں کی کارروائیوں میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں باغیوں کے حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

default

حفاظتی اقدامات کے باعث افغانستان میں باغیوں کے حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے

یہ بات امریکہ میں اقتصادی تحقیق کے نیشنل بیورو کی طرف سے تیارکردہ ایک رپورٹ میں سامنے آئی، جس میں افغانستان کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اتحادی فوجوں کے سابقہ کمانڈر اور امریکی جنرل میک کرسٹل، جو اب ریٹائرڈ ہو گئے ہیں، نے گزشتہ سال ایسے اقدامات کئے تھے، جن کے تحت افغانستان میں اتحادی فضائی حملوں کے لئے شرائط کو مذید سخت بنا دیا گیا تھا۔

ان فوجی پابندیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغانستان میں اتحادی فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی قدرے کم ہو گئے اور ساتھ ہی باغیوں کی طرف سے غیرملکی اتحادی دستوں پر خونریز حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

امریکہ میں اقتصادی تحقیق کے نیشنل بیورو کی تیارکردہ اس رپورٹ کے مصنفین کے مطابق اس تحقیق کے دوران افغانستان میں اس سال یکم اپریل سے پہلے کے پندرہ مہینوں کے دوران جنگی جھڑپوں اور حملوں کے سینکڑوں واقعات کا تجزیہ کیا گیا۔

Pakistan Taliban Angriff auf Konvoi Nato

گزشتہ سال سے رواں سال یکم اپریل تک خونریز حملوں میں 4000 سے زائد افغان شہری مارے گئے

افغانستان کے مختلف علاقوں میں اس عرصے کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور خونریز حملوں میں 4000 سے زائد افغان شہری مارے گئے، لیکن اس دوران یہ بھی ہوا کہ ہندوکش کی ریاست افغانستان میں ایسے مسلح واقعات میں کمی کے بعد باغیوں کے حملوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

رپورٹ کے مصنفین نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ اکثر علاقوں میں نیٹو اور آئی سیف کے حملوں کی تعداد بھی کم ہو گئی، جو اپنے عزیزوں کی موت کا بدلہ لینے کے لئے باغیوں کے ساتھ شامل ہوتے ہوئےاتحادی دستوں پر حملے کرنے لگتے تھے۔

اس رپورٹ سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اکثر شہری ہلاکتوں کے بعد عام افغان باشندے طالبان کی صفحوں میں شامل ہو کر اتحادی دستوں پر مسلح حملے کرنے لگے تھے۔اسی لئے شہری ہلاکتوں کی تعداد میں کمی کے لئے کئے جانے والے فوجی اقدامات کے نتیجے میں اب افغانستان میں باغیوں کے نیٹو فوجیوں پر حملوں کی شرح بھی قدرے کم ہو گئی ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق کئی اتحادی فوجیوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ فوجی آپریشن کے سلسلے میں ان پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں سے افغانستان میں ان کے لئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ پر خطر ہو چکی ہے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس