1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اب ملیے ’بابائے باورچی‘ سے

امریکہ کے سرفہرست کوکنگ اسکول نے فرانس کے پاؤل بوکوس کو بابائے باورچی قرار دیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز نئے دَور کے نت نئے کھانے پکانے اور انہیں پیش کرنے میں مہارت پر دیا گیا ہے۔

default

پاؤل بوکوس

امریکی کوکنگ اسکول ’دی کولنری انسٹی ٹیوٹ آف امریکہ‘ نے رواں ہفتے پاؤل بوکوس کو بابائے باورچی قرار دیتے ہوئے ’شیف آف دی سینچری‘ یعنی بیسویں صدی کا بہترین باورچی ٹھہرایا۔

پچاسی سالہ بوکوس نے اپنے کیریئر میں نہ صرف کھانوں میں جدت پیدا کی بلکہ اپنے ہم پیشہ افراد کی زندگیوں کو بھی تبدیل کیا۔

اس امریکی ادارے کے صدر ٹِم رائن نے نیویارک میں بوکوس کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے قبل ایک بیان میں کہا، ’ان کا شمار ہر دَور کے بہترین باورچیوں میں ہوتا ہے۔‘

رائن نے بتایا کہ بوکوس نے 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں ایک تحریک شروع کی، جو نئے دَور کے کھانوں کی مہارت کے حوالے سے مشہور ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم کھانے پکانے کے فن میں نئے تجربوں کے لیے مثال بنی۔

رائن نے مزید کہا کہ بوکوس باورچیوں کو کچن کی گمنام دنیا سے باہر لائے، جہاں انہیں ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یوں رائن خود بھی جدید دَور کے پہلے سیلیبرٹی شیف بنے۔

پاؤل بوکوس نے رواں ہفتے نیویارک میں اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے دوران کہا کہ کچن میں کامیابی کا راز بہت سادہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’آپ اچھے اجزاء کو نہیں بھلا سکتے۔ اگر اجزاء اچھے نہیں تو کھانا بھی اچھا نہیں بن سکتا۔

Köche mit Kochmütze

بوکوس باورچیوں کو کچن کی گمنام دنیا سے باہر لائے

انہوں نے مزید کہا، ’کوئی کوکنگ اعلیٰ یا کم تر نہیں ہے، یہ تو محض اچھی ہے۔‘

خیال رہے کہ بوکوس اپنے لیے نئے دَور کے کھانے بنانے کے ماہر کے طور پر اعزاز قبول کرنے پر تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اصطلاح میڈیا نے بنائی ہے اور کھانا بنانے کا فن کوئی غیرمعمولی انقلاب نہیں۔

دوسری جانب نیویارک کی تقریب میں شریک دیگر باورچیوں کا کہنا تھا کہ بوکوس ہی اس اعزاز کے اصل حق دار ہیں۔ اس حوالے سے نیویارک کے Per Se ریستوران کے شیف تھامس کیلر کا کہنا ہے کہ بوکوس نے محض کھانوں کا لطف اٹھانے والوں پر ہی جادو نہیں چلایا، بلکہ انہوں نے باورچیوں کو آزاد کیا۔ کیلر نے کہا کہ بوکوس نے اس فن میں وہ جدت پیدا کی، جس کی بدولت گورڈن رامسے اور جیمی اولیور کو گھر گھر جانا جاتا ہے، ان ناموں سے وہ لوگ بھی واقف ہیں جنہیں ڈھنگ سے انڈا ابالنا بھی نہیں آتا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس