1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

‌اب مشرف گئے

پاکستان کے سابق صدر اور فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو حکومت پاکستان نے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی عدالت عظمٰی نے مشرف پر عائد بیرون ملک سفر کی پابندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آج جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،’’آج پرویز مشرف کے وکلاء نے باقاعدہ ایک درخواست جمع کرائی ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں حکومت پاکستان نے سابق صدر کو علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی ہے۔‘‘

مشرف کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کو ریڑھ کی ہڈی کا علاج کرانے کے لیے ملک سے باہر جانا لازمی ہے۔ یہ علاج پاکستان میں نہیں کیا جا سکتا۔ پرویز مشرف 2013ء میں وطن واپس آئے تھے اور ان کے آنے کا مقصد انتخابات میں حصہ لینا تھا تاہم عدالت نے انہیں نا اہل قرار دے دیا تھا۔

چوہدری نثار نے بتایا کہ مشرف کے وکلاء نے ضمانت دی ہے کہ پرویز مشرف چھ ہفتوں بعد واپس آئیں گے اور اپنے خلاف جاری مقدموں میں عدالتی کارروائی کا سامنا کریں گے۔ رواں برس جنوری میں عدالت نے 2006ء کے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں مشرف کو بری کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق صدر کو دیگر چار مقدمات کا سامنا ہے، جن میں ہنگامی حالت کا نفاذ، عدلیہ کی غیر قانونی برترفی، بے نظیر قتل کیس اور اسلام آباد کی لال مسجد میں ہونے والی ہلاکت خیز کارروائی شامل ہے۔

پرویز مشرف نے 1999ء میں نواز شریف حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور اس کے بعد 2008ء میں ہونے انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوری نظام پھر سے بحال ہوا تھا۔